سوال

کیادرج ذیل حدیث احادیث کی کتابوں میں موجود ہے رہنمائی فرمائیں : حضرت عباسؓ ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا : مجھے کوئی ایسی چیز بتائیے جسے میں اللہ سے مانگتا رہوں، آپ ﷺنے فرمایا: “اے عباس! اے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا! دنیا و آخرت میں عافیت طلب کرو“۔

جواب

سوال میں مذکور  حدیث ، سنن ترمذی  اور  احادیث کی  دیگر کتابوں میں موجود ہے :

 حضرت عباس رضی اللہ  عنہ کہتے ہیں کہ (جناب رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضرہوکر)     میں نے عرض کیا :  اے اللہ کے رسول! ایسی کوئی چیز مجھے سکھائیے  جس کو میں اللہ تعالی سے مانگا کروں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اللہ تعالی سے عافیت مانگا کرو، پس میں چند دن ٹھہرا رہا، پھر میں (آپ علیہ الصلاۃ والسلام کے پاس) آیا اور عرض کیا :  اے اللہ کے رسول! ایسی کوئی چیز مجھے سکھائیے جس کو میں اللہ تعالی سے مانگا کروں، تو  آپ علیہ الصلاۃ والسلام نے مجھ سے فرمایا : اے عباس، اے میرے چچا جان! اللہ تعالی سے دنیا وآخرت کی عافیت مانگا کریں!

“عن عبد الله بن الحرث عن العباس بن عبد المطلب قال: قلت: يا رسول الله، علمني شيئا أسأله الله عز و جل قال: سل الله العافية فمكثت أياما، ثم جئت فقلت: يا رسول الله، علمني شيئا أسأله الله فقال لي: يا عباس، يا عم رسول الله، سلوا الله العافية في الدنيا والآخرة”.

(أخرجه  الإمام الترمذي في أبواب الدعوات (5/ 417) برقم (3514)، ط. دار الغرب الإسلامي – بيروت، سنة النشر: 1998 م)

فقط واللہ اعلم


دارالافتاء :
جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


علوم و فنون
تخریجِ احادیث
2025-10-12 17:07:08

Ask Fatwa

Fill out this field
Please enter a valid email address.
Fill out this field
Fill out this field