شرعی سوال و جواب

عشاء کے فرض اور تراویح پڑھنے کے بعد وتر سے پہلے حیض آجائے تو کیا حکم ہے ؟

عشاء کے فرض اور تراویح پڑھنے کے بعد وتر سے پہلے حیض آجائے تو کیا حکم ہے ؟


سوال

 ایک عورت نے رمضان المبارک میں تراویح وغیرہ پڑھ کر وتر کو چھوڑا کہ تہجد کے بعد پڑھوں گی لیکن اس کو رات میں حیض کی بیماری شروع ہوگئی اور وتر ادا نہ کرسکی تو کیا اس پر وتر کی قضا ہوگی؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں وتر کی قضا واجب نہیں ہے۔

فتاوی ہندیہ میں ہے:

“إذا حاضت في الوقت أو نفست سقط فرضه بقي من الوقت ما يمكن أن تصلي فيه أو لا. هكذا في الذخيرة.لو افتتحت الصلاة في آخر الوقت ثم حاضت لا يلزمها قضاء هذه الصلاة بخلاف التطوع. كذا في الخلاصة.”

(کتاب الطهارة ،باب في الدماء المختصة  بالنساء ،الفصل الرابع  في احكام الحيض ،ج:1،ص:38،ط:رشيدية)

فقط واللہ اعلم


دارالافتاء :
جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


طہارت
حیض کی تعریف اور احکام
2025-10-17 15:08:21

یہ اصل سوال اور اس کا متعلقہ جواب ہے۔ جواب میں درج ماخذ، حوالہ اور شرائط ملحوظ رکھیں۔ کسی نئے یا مختلف معاملے کے لیے دارالافتاء سے رجوع کریں۔