شرعی سوال و جواب
عورتوں کے لیے تراویح کی امامت کرنا کیسا ہے؟
سوال
رمضان المبارک میں عورتوں کے لیے تراویح کی امامت کرنا کیسا ہے؟ اس مسئلے میں کچھ وضاحت ہو جائے!
جواب
واضح رہے کہ فرض نماز ہو یا نفل ،عورت ، مردوں کے لیے امام نہیں بن سکتی یعنی عورت کی اقتدا میں مرد کی نماز ہی نہیں ہوگی۔ اور اسی طرح عورت کا عورتوں کے لیے امام بننا بھی مکروہ تحریمی ہے، اور اگر تراویح کا اہتمام اس طرح کیاجائے کہ دیگر گھروں سے بھی عورتیں آکر اس عورت کے پیچھے تراویح پڑھیں تو اس میں اور بھی بہت سے مفاسد و خرابیاں ہیں، اس لیے ایسا کرنا جائز نہیں، خواتین کے لیے یہی حکم ہے کہ وہ تنہا اپنی نماز ادا کریں ، تراویح کی جماعت نہ کریں۔
إعلاء السنن ميں هے:
“فعلم أن جماعتهن وحدهن مکروهة”.
وفیہ ایضاً:
” عن علي بن أبي طالب رضي اللّٰه عنه أنه قال: لا تؤم المرأة . قلت: رجاله کلهم ثقات”.
(ج:4، ص:226/227، ط:دار الکتب العلمیة بیروت)
فتاوی شامی میں ہے:
” ویکره تحریماً جماعة النساء ولو في التراویح – إلی قوله – فإن فعلن تقف الإمام وسطهن فلو قدمت أثمت….
قال الشامي:”أفاد أن الصلاة صحیحة وأنها إذا توسطت لاتزول الکراهة وإنما أرشد و إلی التوسط؛ لأنه أقل کراهة التقدم…..
(قوله: ويكره تحريماً) صرح به في الفتح والبحر (قوله: ولو في التراويح) أفاد أن الكراهة في كل ما تشرع فيه جماعة الرجال فرض أو نفل”.
(كتاب الصلاة، باب الإمامة، ج:1، ص:565، ط:سعيد)
فقط واللہ اعلم
دارالافتاء :
جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن
نماز
تراویح میں امامت
2025-10-12 16:22:58
یہ اصل سوال اور اس کا متعلقہ جواب ہے۔ جواب میں درج ماخذ، حوالہ اور شرائط ملحوظ رکھیں۔ کسی نئے یا مختلف معاملے کے لیے دارالافتاء سے رجوع کریں۔
