شرعی سوال و جواب

عید کی نماز سے پہلے وعظ و نصیحت کرنا جائز ہے یا نہیں؟

عید کی نماز سے پہلے وعظ و نصیحت کرنا جائز ہے یا نہیں؟


سوال

عید کے نماز سے پہلے وعظ و نصیحت کرنا جائز ہے یا نہیں؟  دلیل کے ساتھ رہنمائی فرمائیں !

جواب

واضح رہے کہ عیدین کی نماز میں  مسلمانوں کا ایک بڑا اجتماع ہوتا ہے ،یہ  لوگوں تک دینی احکامات پہنچانے کا ایک بہترین موقع ہوتا ہے ، اس لیے ہمارے یہاں نماز  سے قبل مقامی زبان میں وعظ  و نصیحت کا معمول بنایا گیا؛ تاکہ  اللہ کے احکامات اس کے بندوں تک پہنچانے کے اس موقع سے فائدہ اٹھایا جاسکے ،  لہذا صورت مسئولہ  عیدین کی نماز کا جزء  سمجھے بغیر عیدین سے پہلے وعظ و نصیحت کی جائے   تو شرعاً اس میں کوئی حرج نہیں ۔

مشكاة المصابيح میں ہے:

“عن عبد الله بن عمرو قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «‌بلغوا ‌عني ‌ولو ‌آية وحدثوا عن بني إسرائيل ولا حرج ومن كذب علي متعمدا فليتبوأ مقعده من النار.”

(كتاب العلم،‌‌الفصل الأول،ج:1،ص:70،ط:المكتب الإسلامي – بيروت)

المفاتيح في شرح المصابيح میں ہے:

“قوله: “بلغوا عني”، (بلغوا): أمر المخاطبين، من التبليغ، وهو إيصال الخبر إلى أحد، (الآية) لها معان كثيرة، ومعناها ها هنا: كل كلام مفيد، نحو قوله: “من صمت نجا” و”‌الدين ‌النصيحة.يعني: بلغوا عني أحاديثي إلى أمتي ولو كان قليلا، وهذا تحريض على نشر العلم وتعليم الناس العلم وأحكام الدين ونشر الحديث.”

(كتاب العلم،ج:1،ص:297،ط:وزارة الأوقاف الكويتية)

فقط و اللہ اعلم


دارالافتاء :
جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


حظر و اباحت
دینی محافل و مجالس اور ان کے شرائط و احکام
2025-10-12 16:01:05

یہ اصل سوال اور اس کا متعلقہ جواب ہے۔ جواب میں درج ماخذ، حوالہ اور شرائط ملحوظ رکھیں۔ کسی نئے یا مختلف معاملے کے لیے دارالافتاء سے رجوع کریں۔