سوال

مجھے ایک  اسکول سے پڑھا نے کی آفر آئی ہے،  لیکن اس اسکول میں سارا پیسہ عیسائیوں کے ٹرسٹ سے آتا ہے،  کیا اس اسکول میں میرے لیے پڑھانا جائز ہے؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں مذکورہ  اسکول میں پڑھانا پسندیدہ نہیں،  لہذا  دوسری جگہ ملازمت   تلاش کرنی چاہیے، تاہم اگر سائلہ تنگ دست ہو اور گزر بسر کا انتظام نہ ہو تو ایسی صورت میں  جب تک دوسری جگہ ملازمت نہیں مل جاتی اس وقت تک مذکورہ اسکول میں  پڑھانے کی گنجائش ہے ۔

باقی عیسائیوں کے ٹرسٹ سے چلنے والے مذکورہ اسکول  میں رائج تعلیمی نصاب یعنی اسکول میں  پڑھائی جانے والی کتب کا مدار اگر خلافِ شریعت  ہو،  تو ایسے اسکول میں پڑھانا قطعاً جائز نہیں ہوگا۔

خلاصۃ الفتاوٰی میں ہے :

“المسلم إذا آجر نفسه من الكافر ليخدمه جاز ويكره ،قال الفضلي:لا يجوز في الخدمة وما فيه إضلال.”

( کتاب الاجارات،ج:3،ص:149،رشیدیہ)

فتاوی شامی میں ہے:

“وما كان سببا لمحظور ‌فهو ‌محظور اهـ.”

(ج:6، ص:350، ط:سعید)

فقط واللہ اعلم 


دارالافتاء :
جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


اجارہ
اجارہ صحیحہ
2025-10-08 10:33:22

Ask Fatwa

Fill out this field
Please enter a valid email address.
Fill out this field
Fill out this field