سوال

اسلام میں غلط تعویذ ات کرنے کا کیا حکم ہے؟ اس شخص کا اتہ پتہ چل جاتا ہے یا نہیں؟ اگر چل جاتا ہے تو کیسے ؟ اسلامی نقطہ نظر سے رہنمائی فرمائے۔

جواب

 تعویذ کے شرعًا جائز ہونے کی تین شرائط ہیں:

1: کسی جائز مقصد کے لیے ہو، ناجائز مقصد کے لیے ہرگز نہ ہو۔

2: تعویذ کو مؤثر بالذات نہیں سمجھا جائے، بلکہ اللہ تعالیٰ کی ذات کو ہی مؤثر حقیقی سمجھا جائے۔

3۔:وہ تعویذ قرآن و حدیث یا اللہ تعالیٰ کے اسماء و صفات پر مشتمل ہو، یا عربی یا کسی اور زبان کے ایسے الفاظ پر مشتمل ہو جن میں کفر و شرک یا گناہ کی بات نہ ہو اور ان کا مفہوم بھی معلوم ہو۔

اگر مذکورہ شرائط نہ پائی جائیں تو پھر تعویذ کرنا اور پہننا شرعًا ناجائز ہوگا؛ لہٰذا کسی کو ضرر پہنچانے کے لیے بھی تعویذ کرنا جائز نہیں ہے۔

باقی کسی تعویذ کے ذریعے کسی شخص کا اتا پتا چلنا شرعًا ثابت نہیں ہے، تعویذ کے ذریعے کسی شخص کا اتہ پتہ معلوم نہیں ہوسکتا۔

حجة الله البالغة  میں ہے:

“وَأما الرقي فحقيقتها التَّمَسُّك بِكَلِمَات لَهَا تحقق فِي الْمثل وَأثر، وَالْقَوَاعِد الملية لَا تدفعها مَا لم يكن فِيهَا شرك لَا سِيمَا إِذا كَانَ من الْقُرْآن أَو السّنة أَو مِمَّا يشبههما من التضرعات إِلَى الله.”

(اللباس والزينة والأوانى وغيرها، ج:2، ص:300، ط:دارالجيل.بيروت)

فقط واللہ اعلم


دارالافتاء :
جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


علوم و فنون
اوراد ووظائف
2025-10-08 04:52:17

Ask Fatwa

Fill out this field
Please enter a valid email address.
Fill out this field
Fill out this field