غیر محرم عورتوں کا سر یا ہاتھ پکڑ کر دم کرنے کا حکم


سوال

کیا عورتوں کا ہاتھ پکڑ کر یاسر پر ہاتھ رکھ کر دم کرنا جائز ہےیانہیں ؟راہ نمائی فرمائیں۔

جواب

واضح رہے کہ شریعت میں غیرمحرم عورتوں کو چھونا حرام ہے۔ آپﷺ نے کبھی بھی کسی   غیر محرم عورت کو ہاتھ نہیں لگایا یہاں تک کہ بیعت کے وقت بھی ہاتھ   چھو کر  کبھی بیعت نہیں لی۔ لہٰذا صورتِ مسئولہ میں   کسی اجنبیہ عورت کا ہاتھ   پکڑ کر یا سر پر ہاتھ رکھ کر دم کرنا  حرام ہے۔

البحر الرائق میں ہیں:

“قال: – رحمه الله – (ويمس ما يحل له النظر إليه) يعني يجوز أن يمس ما حل له النظر إليه من محارمه ومن الرجل لا من الأجنبية”.

(کتاب الكراهية: فصل في النظر والمس، ج:8، ص:221، ط: دارالكتاب الاسلامي )

در مختار میں ہے:

“(وما حل نظره) مما مر من ذكر أو أنثى (حل لمسه) إذا أمن الشهوة على نفسه وعليها۔۔(إلا من أجنبية) فلا يحل مس وجهها وكفها وإن أمن الشهوة؛ لأنه أغلظ.”

(کتاب الحظر والإباحة، فصل في النظر والمس،ج:6، ص:367، ط: دارالفکر بیروت)

فتاوی عالمگیریہ میں ہے:

“ولا يحل له أن يمس وجهها، ولا كفها، وإن كان يأمن الشهوة”.

(كتاب الكراهية، الباب الثامن، ج:5، ص:329، ط: دار الفكر بيروت)

فقط واللہ اعلم


دارالافتاء :
جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


حظر و اباحت
اجنبی عورتوں سے تنہائی، میل جول / مس کرنا
2025-09-30 15:04:03

Ask Fatwa

Fill out this field
Please enter a valid email address.
Fill out this field
Fill out this field