سوال
ایک شخص فجر کی نماز وقت کے بعد پڑھے تو اسے پہلے سنت پڑھنا چاہیے یا فرض؟
جواب
واضح رہے کہ عام سنتوں کی قضا نہیں ،البتہ صرف فجر کی سنتوں کی قضا ہے جب وہ دورکعت فرض سمیت رہ جائےاور اس کو زوال سے پہلے اداکیاجائے،لہذا جس طرح وقت کےاندرپہلے سنتیں ہیں پھر فرض، اسی طرح قضا میں بھی سنتیں پہلے ہوگی اور فرض اس کے بعد اداکی جائےگی ۔ ملحوظ رہے کہ اگر کسی کی صرف فجر کی سنتیں رہ جائیں اور وہ فرض نماز پڑھ لے تو اسے چاہیے کہ اشراق کا وقت ہوجانے کے بعد اسی دن زوال سے پہلے پہلے فجر کی
فتاوی شامی میں ہے:
“(ولايقضيها إلا بطريق التبعية ل) قضاء (فرضها قبل الزوال لا بعده في الأصح)؛ لورود الخبر بقضائها في الوقت المهمل”.
(باب ادراک الفریضة، 57/2، ط: سعيد)
فقط والله أعلم
دارالافتاء :
جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن
نماز
سنن و نوافل کی قضاء
2025-09-30 14:58:06
