شرعی سوال و جواب
فلٹر شدہ پانی فروخت کرنے کا حکم
سوال
کیا فلٹر شدہ پانی کی خرید وفروخت کرنا جائز ہے؟
جواب
صورت مسئولہ میں اگر کوئی شخص پانی کو برتن، مشکیزہ، ٹینک، کین وغیرہ میں محفوظ کرلے تو وہ اس کی ملکیت قرار پاتا ہے، اب اس کو اختیار ہے خواہ مفت دے یا مال کے عوض بیچے، اس صورت میں ازروئے شرع اس کی خرید وفروخت کی جاسکتی ہے، لہٰذا پانی فلٹر کر کے فروخت کرنا شرعًا جائز ہے، اور اس کی آمدنی بھی حلال ہے، البتہ اس سلسلے میں اگر قانونی طور حکومتی اجازت نامہ ضروری ہو تو اس کی اور اورحفظانِ صحت کے اصولوں کی رعایت رکھی جائے۔
فتاوی شامی(حاشیۃ ابن عابدین) میں ہے:
“إن صاحب البئرلایملك الماء … و هذامادام في البئر، أما إذا أخرجه منها بالاحتیال، کمافي السواني فلاشك في ملکه له؛ لحیازته له في الکیزان، ثم صبه في البرك بعد حیازته”.
(کتاب البیوع، باب البیع الفاسد، مطلب صاحب البئر لایملك الماء، ج:5، ص: 67، ط:ایچ ایم سعید)
فقط والله أعلم
دارالافتاء :
جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن
بیوع
بیع کی تعریف اور ارکان
2025-10-17 19:00:06
یہ اصل سوال اور اس کا متعلقہ جواب ہے۔ جواب میں درج ماخذ، حوالہ اور شرائط ملحوظ رکھیں۔ کسی نئے یا مختلف معاملے کے لیے دارالافتاء سے رجوع کریں۔
