شرعی سوال و جواب

قادیانی سے نکاح کا حکم

سوال

میری شادی 1998 میں امریکہ میں ایک لڑکے کے ساتھ  ہوئی تھی،  شادی سے پہلے اس نے جھوٹ بولا تھا کہ میں سنی مسلمان  ہوں، پھر شادی کے بعد 2016 میں اس نے اپنا قادیانیوں والا قرآن لا کر دیا،  اور کہا کہ تم اس کو پڑھو،  تب معلوم ہوا کہ یہ قادیانی ہے،  اور اس نے جھوٹ بولا تھا ، پھر اس کے بعد  میں اس سے الگ ہو کر پاکستان اآگئی ہوں،  اب پوچھنا یہ ہے کہ ہمارا نکاح برقرار ہے یا نہیں ؟ اس سے طلاق لینی پڑے گی یا نہیں؟  یا کیا صورت ہوگی؟  اور دوسرا یہ کہ اتنا عرصہ لاعلمی میں جو میں نے اس کے ساتھ گزارا ہے تو اس کے بارے میں کیا حکم ہے؟  اس کا کوئی کفارہ دینا پڑے گا ؟

جواب

واضح رہے کہ قادیانی زندیق و مرتد ہے،  مسلمانوں کے لیے ان سے نکاح کرنا حرام ہے،  اگر مسلمان نے کسی قادیانی سے نکاح کر لیا تو شرعاً وہ  نکاح منعقد ہی نہیں ہوا ۔

فتاویٰ شامی میں  ہے:

“(ولا) ‌يصلح (‌أن ‌ينكح مرتد أو مرتدة أحدا) من الناس مطلقا…(قوله مطلقا) أي مسلما أو كافرا أو مرتدا.”

(كتاب النكاح، باب نكاح الكافر، ج:3، ص:200، ط:سعيد)

فتاویٰ ہندیہ میں ہے:

“لا يجوز ‌نكاح ‌المجوسيات ولا الوثنيات….والزنادقة والباطنية والإباحية وكل مذهب يكفر به معتقده.”

(كتاب النكاح، الباب الثالث في بيان المحرمات، القسم السابع المحرمات بالشرك، ج:1، ص:281، ط:دار الفکر)

لہذا صورت مسئولہ  میں اگر لڑکا واقعی قادیانی ہے تو سائلہ کا اس سے نکاح شرعا منعقد ہی نہیں ہوا ہے،  لاعلمی کی بنا پر جو وقت ساتھ گزارا ہے اس پر تو بہ وہ استغفار لازمی ہے،  اور اب معلوم ہونے کی صورت میں فی  الفور علیحدگی ضروری ہے ، قانونی تقاضا پورا کرنے کے لیے سائلہ کورٹ سے خلع یا طلاق کے کاغذات  بنوا سکتی ہے ۔ فقط واللہ اَعلم


دارالافتاء :
جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


نکاح
غیر مسلموں سے نکاح
2025-10-08 11:55:41

یہ اصل سوال اور اس کا متعلقہ جواب ہے۔ جواب میں درج ماخذ، حوالہ اور شرائط ملحوظ رکھیں۔ کسی نئے یا مختلف معاملے کے لیے دارالافتاء سے رجوع کریں۔