شرعی سوال و جواب

قادیانی کے ساتھ نکاح شرعاً منعقد ہی نہیں ہوتا

قادیانی کے ساتھ نکاح شرعاً منعقد ہی نہیں ہوتا


سوال

میرے خاوند قادیانی ہیں، یہ بات مجھے نکاح کے بعد معلوم ہوئی، مجھے بتائیں کہ اب مجھے کیا کرنا چاہیے؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں اگر خاوند نکاح کے وقت قادیانی تھا تو سائلہ کا اس کے  ساتھ  نکاح شرعًا منعقد ہی نہیں ہوا، اس کے ساتھ کسی بھی قسم کا تعلق رکھنا حرام ہے، لہذا سائلہ پر فوراً اس سے علیحدگی اختیار کرنا لا زم ہے  اور اگر نکاح کے بعد قادیانی ہوا ہے تو مرتد ہو جانے کی  وجہ سے اس سے نکاح ٹوٹ گیا ہے؛ لہذا اس کی زوجیت میں رہنا حرام ہے اور اس سے جدائی فورًا  لازم ہے۔

فتاوی شامی میں ہے:

“(و لا) يصلح (أن ينكح مرتد أو مرتدة أحدًا) من الناس مطلقاً.”

“(قوله: مطلقًا) أي مسلمًا أو كافرًا أو مرتدًا.”

(کتاب النکاح، باب نکاح الکافر، ج:3، ص: 200، ط: ايچ ايم سعيد)

فتح القدیر میں ہے:

“(قوله: و لايجوز أن يتزوج المرتد مسلمة ولا كافرة) أما المسلمة فظاهر؛ لأنها لا تكون تحت كافر.”

(كتاب النكاح، باب نكاح اهل الشرك، ج: 3، ص: 417، ط: دار الفكر)

فقط والله اعلم


دارالافتاء :
جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


نکاح
مرتد کے نکاح کا حکم
2025-09-27 04:02:22

یہ اصل سوال اور اس کا متعلقہ جواب ہے۔ جواب میں درج ماخذ، حوالہ اور شرائط ملحوظ رکھیں۔ کسی نئے یا مختلف معاملے کے لیے دارالافتاء سے رجوع کریں۔