شرعی سوال و جواب
قرآن پاک کو غلطی سے پیر لگ جانے کا حکم
سوال
قرآن پاک کو غلطی سے پیر لگ جائے تو اس کا کیا حکم ہے؟
جواب
اگر غلطی سے بلاقصد و ارادے کے قرآن كريم کو پیر لگ جائےتو اس پر مؤاخذہ نہیں، تاہم اس بے احتیاطی اور غفلت کی وجہ سے اللہ تعالی کے حضور توبہ و استغفار کرلینا چاہیے ، کوئی کفارہ وغيره لازم نہیں ہے، بس توبہ واستغفار کرلینا کافی ہے اور آئندہ کے لیے احتیاط کریں۔
حديث شريف ميں هے:
“عن أبي ذر الغفاري قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: “إن الله تجاوز لي عن أمتي الخطأ، والنسيان، وما استكرهوا عليه.”
(كتاب الطلاق،باب طلاق المكره والناسي، ج:1، ص:659، رقم حديث:6043، ط:دار إحياء الكتب العربية)
کفایت المفتی میں مفتی کفایت اللہ دہلوی صاحب رقم طراز ہے:
“اگر غلطی سے بلاقصد و ارادے کے قرآن پاک ہاتھ سے گرجائے تو اس پر مؤاخذہ نہیں، تاہم اس بے احتیاطی اور غفلت کی وجہ سے اللہ تعالی کے حضور توبہ و استغفار کرلینا چاہیے۔”
(کفایت المفتی، کتاب العقائد ،ج:1 ، ص:130 ، ط: دار الاشاعت)
فقط و اللہ اعلم
دارالافتاء :
جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن
حظر و اباحت
متفرقات ممنوعات و مباحات
2025-09-30 13:39:35
یہ اصل سوال اور اس کا متعلقہ جواب ہے۔ جواب میں درج ماخذ، حوالہ اور شرائط ملحوظ رکھیں۔ کسی نئے یا مختلف معاملے کے لیے دارالافتاء سے رجوع کریں۔
