شرعی سوال و جواب

قرآن کریم کی آیات کی تعداد میں اختلاف کی وجہ

سوال

قرآن کریم کے بارے میں مشہور ہے کہ قرآن کی آیات کی تعداد 6666 ہے حالانکہ بعض جگہ پر 6236 آیتیں لکھی ہوئی ہیں تو یہ اختلاف کس بنیاد پر ہے اور موجودہ نسخے کے مطابق قرآن کی آیات کی تعداد احناف کے نزدیک کتنی ہے اور رکوع کی تعداد کتنی ہے؟

جواب

       قرآن کریم کی آيات چھ ہزار هونے پر سب کا اتفاق ہے۔ اس سے زائد کے بارے میں مکہ مکرمہ، مدینہ منورہ، کوفہ اور بصرہ کے قراء کا اختلاف ہے۔ لیکن قرآن کریم کی آیات کی تعداد کے بارے میں یہ اختلاف آیات کی انتہاء وابتداء کے حساب سے ہے یعنی کہاں پر وقف کیا جائے اور کہاں وقف نہ کیا جائے، بلکہ ملاکر پڑھے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ تلاوت کرتے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم بعض دفعہ کسی جگہ پر رک کر سانس تھوڑدیتے، اور بعض دفعہ اس پر وقف نہیں کرتے بلکہ ملا کر پڑھتے۔اس لئے بعد میں یہ اختلاف اس طرح نقل ہوگیا۔ بعض صحابہ کرام رضی اللہ عنہم وصل کرتے(ملا کر پڑھتے)، اور  بعض دوسرے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اس جگہ پر فصل(جدا،جدا) کرکے پڑھتے۔بعد کے ادوار میں جب آیات کو اس اعتبار سے گنا گیاـ تو اس سے آیات کی تعداد میں اختلاف واقع ہوا۔اور بعد میں یہ اختلاف مکی، مدنی، کوفی اور بصری قراء کی اختلاف کی شکل میں ظاھر ہوا۔ لیکن یہ اختلاف معاذ اللہ اس بنیاد پر ہر گز نہیں کہ قرآن کریم کے کسی حصے کے متعلق اختلاف ہے کہ وہ قرآن کریم کا حصہ ہے یا نہیں۔ یہ  اقوالصرف بعض مقامات کے متعلق وقف وعدم وقف کا اختلاف ہے۔

مناہل العرفان میں ہے:

“قال صاحب التبيان ما نصه: وأما عدد آي القرآن فقد اتفق العادون على أنه ستة آلاف ومائتا آية وكسر إلا أن هذا الكسر يختلف مبلغه باختلاف أعدادهم:

ففي عدد المدني الأول سبع عشرة وبه قال نافع.

وفي عدد المدني الأخير أربع عشرة عند شيبة وعشر عند أبي جعفر.

وفي عدد المكي عشرون.

وفي عدد الكوفي ست وثلاثون. وهو مروي عن حمزة الزيات.

وفي عدد البصري خمس وهو مروي عن عاصم الجحدري. وفي رواية عنه أربع وبه قال أيوب بن المتوكل البصري وفي رواية عن البصريين أنهم قالوا: تسع عشرة وروي ذلك عن قتادة.

وفي عدد الشامي ست وعشرون وهو مروي عن يحيى بن الحارث الذماري اهـ.”

(المبحث التاسع: في ترتيب آيات القرآن وسوره، عددآيات القرآن،1/ 343،ط. مطبعة عيسى البابي الحلبي)

 تاریخ القرآن ميں مولانا عبد الصمدصارم رحمہ اللہ لکھتے ہیں:

’’آیات تعداد میں اختلاف ہے۔ اس کا باعث یہ ہے کہ حضور علیہ السلام بعض دفعہ آیتوں پر ٹھهرا کرتے تھے اور بعض دفعہ وصل دفعہ وصل بھی فرمایا کرتے تھے۔ لہذا بعض نے فصل کا اعتبار کیا اور بعض نے وصل کا۔‘‘

(الباب الثالث فی الشتات،شمار ،ص:101، ط۔ میرمحمد کتب خانہ کراچی،1359ھ)

مزید یہ کہ آیات آیة کی جمع ہے، اور آیت کا معنی ہے نشان علامت، قرآن کریم میں اس کا مطلب ہے وہ مقام جس پر ٹھہرنا اچھا ہو۔جیسا کہ المصباح المنیر(لابی العباس احمد بن محمد بن علي الفيومي،ت:۷۷۷ھ) میں ہے:

“والآية: العلامة، والجمع: آي، وآيات، والآية من القرآن: ما يحسن السكوت عليه.”

(الألف مع الواو، 1/ 32،ط: المكتبة العلمية ، بيروت)

ہمارے ہاں مروجہ قرآن کریم كے نسخہ کے مطابق  6236 آیات ، اور 540 رکوعات ہیں، یہ حساب ہم نے تاج کمپنی  لمیٹڈ پاکستان  کے مطبوعہ قرآن کریم کو سامنے رکھ کر لگا یا ہے۔

فتاوی ہندیہ میں ہے:

“وحكي أن المشايخ رحمهم الله تعالى جعلوا القرآن على خمسمائة وأربعين ركوعا وأعلموا ذلك في المصاحف حتى يحصل الختم في ليلة السابع والعشرين.”

(كتاب الصلاة ،الباب التاسع في النوافل، فصل في التراويح، 1/ 118،ط: رشیدیہ)

آيات سے كي تعداد سے متعلق   ایک چارٹ:

نمبر سورة آیات
1 الفاتحہ 7
2 البقرة 286
3 آل عمران 200
4 النساء 176
5 المائدہ 120
6 الانعام 165
7 الاعراف 206
8 الانفال 75
9 التوبہ 129
10 یونس 109
11 ہود 123
12 یوسف 111
13 الرعد 43
14 ابراھیم 52
15 الحجر 99
16 النحل 128
17 بنی اسرائیل 111
18 الکہف 110
19 مریم 98
20 طہ 135
21 الانبیاء 112
22 الحج 78
23 المومنون 118
24 النور 64
25 الفرقان 77
26 الشعراء 227
27 النمل 93
28 القصص 88
29 العنکبوت 69
30 الروم 60
31 لقمان 34
32 السجدہ 30
33 الاحزاب 73
34 سبا 54
35 فاطر 45
36 یسین 83
37 الصافات 182
38 ص 88
39 الزمر 75
40 المومن 85
41 حم سجدہ 54
42 الشوری 53
43 الزخرف 89
44 الدخان 59
45 الجاثیہ 37
46 الاحقاف 35
47 محمد 38
48 الفتح 29
49 الحجرات 18
50 ق 45
51 الذاریات 60
52 الطور 49
53 النجم 62
54 القمر 55
55 الرحمن 78
56 الواقعہ 96
57 الحدید 22
58 المجادلہ 22
59 الحشر 24
60 الممتحنہ 13
61 الصف 14
62 الجمعہ 11
63 المنافقون 11
64 التغابن 18
65 الطلاق 12
66 التحریم 12
67 الملک 30
68 القلم 52
69 الحاقہ 52
70 المعارج 44
71 نوح 28
72 الجن 28
73 المزمل 20
74 المدثر 56
75 القیامہ 40
76 الدھر 31
77 المرسلات 50
78 النباء 40
79 النازعات 46
80 عبس 42
81 التکویر 29
82 الانفطار 19
83 المطففین 36
84 الانشقاق 25
85 البروج 22
86 الطارق 17
87 الاعلیٰ 19
88 الغاشیہ 26
89 الفجر 30
90 البلد 20
91 الشمس 15
92 اللیل 21
93 الاضحی 11
94 الم نشرح 8
95 التین 8
96 العلق 19
97 القدر 5
98 البینہ 8
99 الزلزال 8
100 العادیات 11
101 القارعة 11
102 التکاثر 8
103 العصر 3
104 الھمزة 9
105 الفیل 5
106 قریش 4
107 الماعون 7
108 الکوژر 3
109 الکافرون 6
110 النصر 3
111 تبت 5
112 الاخلاص 4
113 الفلق 5
114 الناس 6

فقط واللہ اعلم


دارالافتاء :
جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


ایمان و عقائد
آسمانی کتابیں
2025-09-30 14:49:28

یہ اصل سوال اور اس کا متعلقہ جواب ہے۔ جواب میں درج ماخذ، حوالہ اور شرائط ملحوظ رکھیں۔ کسی نئے یا مختلف معاملے کے لیے دارالافتاء سے رجوع کریں۔