شرعی سوال و جواب
قرض سے نجات کا وظیفہ
سوال
میرا سوال ہے کہ میں نے گناہ کبیرہ کیا ہے۔ ابھی توبہ کی ہے اور الحمد اللہ بار بار کررہاہوں اور ابھی اس گناہ کے بارے میں سوچتا بھی نہیں، لیکن اس گناہ کی نحوست ابھی تک موجود ہے۔ اس گناہ کے وجہ سے میں قرضوں میں ڈوب گیا۔ گھر بار سب ختم۔ ابھی بچوں سے دور ہوں مفروری کی زندگی گزار رہا ہوں، نہ قرضوں کا بندو بست ہے ،الحمدللہ جو قرضہ چڑھ گیا وہ عیاشیوں پر نہیں لگا، لیکن کاروبار میں نقصان کیا۔ ابھی بلکل واپس کرنے کا کوئ ذریعہ نہیں۔
جواب
سائل اللہ سے دعا کرتا رہے ،فرائض واجبات اور نوافل کا اہتمام کرتا رہے اور ہر قسم کے گناہ سے پرہیز کرے اللہ تعالیٰ کی رحمت سے مایوس نہ ہو اور فرائض کے بعد ، رات کو تہجد کے وقت اور دیگر اوقات میں کثرت سے یہ دعا مانگا کرے:
۱) ‘ اَللّٰهُمَّ اکْفِنِيْ بِحَلَالِكَ عَنْ حَرَامِكَ وَأَغْنِنی بِفَضْلِكَ عَمَّنْ سِوَاكَ”.
۲) ”اَللّٰهُمَّ إِنِّيْ أَعُوْذُبِكَ مِنَ الْهَمِّ وَالْحَزَنِ، وَأَعُوْذُبِكَ مِنَ الْعَجْزِ وَالْكَسْلِ، وَأَعُوْذُبِكَ مِنْ غَلَبَةِ الدَّيْنِ وَقَهْرِ الرِّجَالِ.”فقط واللہ اعلم
دارالافتاء :
جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن
علوم و فنون
اوراد ووظائف
2025-10-08 03:15:54
یہ اصل سوال اور اس کا متعلقہ جواب ہے۔ جواب میں درج ماخذ، حوالہ اور شرائط ملحوظ رکھیں۔ کسی نئے یا مختلف معاملے کے لیے دارالافتاء سے رجوع کریں۔
