شرعی سوال و جواب
قسط کی وصولی کے لیے آنے جانے کا خرچہ خریدار سے لینا
قسط کی وصولی کے لیے آنے جانے کا خرچہ خریدار سے لینا
سوال
ایک دکان دار نے موبائل فون قسط پر دیا، اب اس قسط کی وصولی کےلیے ستر (۷۰) کلومیٹر تک جانا پڑتا ہے ،تو کیا آنے جانے کا کرایہ قسط پر موبائل خرید نے والے سے وصول کر سکتا ہے؟
جواب
صورتِ مسئولہ میں دکان دار کے لیے موبائل قسطوں میں فروخت کرنے کی صورت میں خریدار سے اتنی قیمت ہی وصول کرنا جائز ہے جتنی قیمت میں موبائل فروخت کیا تھا،زائد رقم لینا جائز نہیں ،اسی طرح اگر دکان دار(فروخت کنندہ) کو قسط وصول کرنے کے لیے دور جانا پڑتا ہو تو آنے جانے کا کرایہ بھی خریدار سے وصول کرنا جائز نہیں، ہاں فروخت کرتے وقت قیمت بڑھا کر فروخت کر سکتا ہے، تا کہ آنے جانے کے اخراجات کے پیسے بھی نکل آئیں۔
درر الحکام میں ہے:
“الثمن المسمى هو الثمن الذي يسميه ويعينه العاقدان وقت البيع بالتراضي سواء كان مطابقا للقيمة الحقيقية أو ناقصا عنها أو زائدا عليها.”
(الكتاب الأول البيوع، مقدمة في بيان الاصطلاحات الفقهية المتعلقة بالبيوع، (المادة: 153 الثمن المسمى، ج:1، ص:124، ط:دار الجيل)
فقط واللہ اعلم
دارالافتاء :
جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن
بیوع
ثمن و مبیع کی سپردگی کے اخراجات
2025-09-26 01:51:51
یہ اصل سوال اور اس کا متعلقہ جواب ہے۔ جواب میں درج ماخذ، حوالہ اور شرائط ملحوظ رکھیں۔ کسی نئے یا مختلف معاملے کے لیے دارالافتاء سے رجوع کریں۔
