سوال

کیا ہم لڑکی کا نام ایزال فاطمہ رکھ سکتے ہیں؟ جب کہ جہاں تک ہمیں پتہ چلا ہے اس کا معنی خدا کا تحفہ کے ہیں!

جواب

عربی لغت کے مطابق “إیزال” ’’آزل یوزل‘‘ باب افعال کا مصدر ہے، جس کا معنی ہے :’’قحط سالی میں شدت آنا‘‘ ۔ لہذا معنی کے اعتبار سے یہ نام مناسب نہیں ہے، تاہم ’’فاطمہ‘‘ نام بہت اچھا ہے، یہ نام رکھا جاسکتا ہے۔

باقی عربی لغت میں تلاش و جستجو کے باوجود  ہمیں اس کا معنی ’’خدا کا تحفہ‘‘ ہونا نہیں ملا۔ 

لسان العرب ميں هے:

“وآزَلَت السَّنَةُ: اشتدّت؛ ومنه الحديثُ قولُ طَهْفة للنبي، صلى الله عليه وسلم: أَصابتنا سَنَة حمراء مُؤْزِلة أَي آتي بالأَزْل، ويروى مُؤَزِّلة، بالتشديد على التكثير.وأَصبح القوم آزلين أَي في شدة.”

فقط واللہ اعلم


دارالافتاء :
جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


حظر و اباحت
ناموں کے معانی اور احکام
2025-10-17 17:11:07

Ask Fatwa

Fill out this field
Please enter a valid email address.
Fill out this field
Fill out this field