شرعی سوال و جواب
لڑکی کے انتقال کے بعد اس کا جہیز ترکہ میں شمار ہوگا
لڑکی کے انتقال کے بعد اس کا جہیز ترکہ میں شمار ہوگا
سوال
لڑکی کی فوتگی کے بعد اس کے جہیز پر کس کا حق ہے؟ سسرال والے جہیز نہیں دےرہےہیں ۔ فتوی کی صورت میں رہنمائی کریں
جواب
صورتِ مسئولہ میں لڑکی کے انتقال کے بعد اس کا جہیز اور دیگر ملکیتی سامان اس فوت شدہ لڑکی کا ترکہ شمار ہوگا، جو اس کے شرعی ورثاء میں شریعت کے مطابق تقسیم ہوگا، لہذا سسرال والوں کا اس پر قبضہ کرنا جائز نہیں ہے۔
نوٹ: لڑکی کے شرعی ورثاء کی تفصیلات بتاکر ترکہ کی تقسیم پوچھی جاسکتی ہے۔
التعریفات للجرجانی میں ہے:
“التركة: في اللغة ما يتركه الشخص ويبقيه، وفي الاصطلاح: ما ترك الإنسان صافيًا خاليًا عن حق الغير”.
(باب التاء، ص:56، ط:دار الکتب العلمية)
فتاوی شامی میں ہے:
“(قوله الخالية إلخ) صفة كاشفة لأن تركه الميت من الأموال صافيا عن تعلق حق الغير بعين من الأموال”.
(کتاب الفرائض، ج:6، ص:659، ط:سعید)
فقط واللہ اعلم
دارالافتاء :
جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن
فرائض
میراث کا حکم
2025-10-08 08:11:03
یہ اصل سوال اور اس کا متعلقہ جواب ہے۔ جواب میں درج ماخذ، حوالہ اور شرائط ملحوظ رکھیں۔ کسی نئے یا مختلف معاملے کے لیے دارالافتاء سے رجوع کریں۔
