شرعی سوال و جواب

مباشرت کے بعد انزال نہ ہونے کی صورت میں غسل کا حکم

مباشرت کے بعد انزال نہ ہونے کی صورت میں غسل کا حکم


سوال

اگر دوران مباشرت شوہر ،بیوی کے شرم گاہ کے اندرکچھ وقت کے لیے ڈال دے لیکن منی کا اخراج نہ ہو اور پھر اسی طرح مباشرت ختم کردے تو میاں بیوی میں سے غسل کس پر لازم ہوگی؟

جواب

صورت ِ مسئولہ میں غسل کے فرض ہونے کے لیے منی کا انزال ہونا ضروری نہیں ہے ،صرف دخول ہی کافی ہے ؛لہذا ایسی صورت میں بھی میاں بیوی دونوں  پر غسل کرنا فرض ہے اگرچہ دخول کے بعد انزال نہ ہوا ہو۔

فتاوی هنديه   میں ہے :

“(السبب الثاني الإيلاج) الإيلاج في أحد السبيلين إذا توارت الحشفة يوجب الغسل على الفاعل والمفعول به أنزل أو لم ينزل وهذا هو المذهب لعلمائنا. كذا في المحيط وهو الصحيح. كذا في فتاوى قاضي خان ولو كان مقطوع الحشفة يجب الغسل بإيلاج مقدارها من الذكر. كذا في السراج الوهاج”.

(کتاب الطہارۃ،الباب الثانی فی الغسل،ج:1،ص:15،دارالفکر)

فقط واللہ اعلم


دارالافتاء :
جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


طہارت
موجبات غسل
2025-09-30 17:17:36

یہ اصل سوال اور اس کا متعلقہ جواب ہے۔ جواب میں درج ماخذ، حوالہ اور شرائط ملحوظ رکھیں۔ کسی نئے یا مختلف معاملے کے لیے دارالافتاء سے رجوع کریں۔