شرعی سوال و جواب

متولی کی اجازت کے بغیر مسجد کی مرمت

سوال

مسجد کا چندہ جو درمیان ہفتے میں آتا ہے، اس کو متولی کو اطلاع دیے بغیر مسجد کے حجرے کی تعمیر میں استعمال کرنا کیسا ہے؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں مسجد کے لیے جمع ہونے والا چندہ متولی کی اجازت کے بغیر خرچ کرنا جائز نہیں(چاہے مسجد کی ضروریات میں خرچ کیا جائے)۔

فتاوی دار العلوم دیوبند میں ہے:

’’ بلا اجازت متولی کسی شخص کو مسجد میں بناء و نقض کا اختیار نہیں ہے، البتہ اگر اہل محلہ میں سے کوئی شخص اپنے مال سے مسجد کی مرمت اور درستی کرے، اور ضروری سامان مسجد میں دے تو یہ جائز ہے، اور یہ ثواب ہے۔فقط‘‘

(وقف کا بیان، احکام مسجد، مسجد اور اس کی زمین سے متعلق مسائل، متولی کی اجازت کے بغیر مسجد کی مرمت کرنا،ج: ۱۳، ص: ۳۷۴، ط: دار الاشاعت)

فتاوی شامی میں ہے:

“وفي ط عن الهندية: مسجد مبني أراد رجل أن ينقضه ويبنيه أحكم ليس له ذلك؛ لأنه لا ولاية له مضمرات إلا أن يخاف أن ينهدم، إن لم يهدم تتارخانية وتأويله إن لم يكن الباني ‌من ‌أهل ‌تلك ‌المحلة، وأما أهلها فلهم أن يهدموه ويجددوا بناءه ويفرشوا الحصير، ويعلقوا القناديل، لكن من مالهم لا من مال المسجد إلا بأمر القاضي خلاصة.”

(حاشية ابن عابدين ( رد المحتار ) علي الدر المختار، كتاب الوقف، فرع أراد أهل المحلة نقض المسجد وبناءه أحكم من الأول، 4/ 357، ط: سعيد)

فقط والله أعلم


دارالافتاء :
جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


وقف
مسجد کی مرمت و انہدام و تعمیر و توسیع
2025-10-08 15:24:40

یہ اصل سوال اور اس کا متعلقہ جواب ہے۔ جواب میں درج ماخذ، حوالہ اور شرائط ملحوظ رکھیں۔ کسی نئے یا مختلف معاملے کے لیے دارالافتاء سے رجوع کریں۔