شرعی سوال و جواب
مروجہ اسلامی بینک الفلاح میں سیونگ اکاؤنٹ کھولنا
مروجہ اسلامی بینک الفلاح میں سیونگ اکاؤنٹ کھولنا
سوال
کیا میں اپنی رقم اسلامی بینک الفلاح کے سیونگ اکاؤنٹ میں رکھ سکتا ہوں ؟جب کہ نفع متعین نہیں ہوتا ؟
جواب
مروجہ اسلامی نام کے بینکوں کے معامالات مکمل طور پر شریعت کے مطابق نہیں ہے ،لہذا روایتی بینکوں کی طرح مروجہ اسلامی بینکوں میں بھی سیونگ اکاؤنٹ کھولنا شرعا جائز نہیں ہے ۔
مزیدتفصیل کے لیے دیکھیے: ’’مروجہ اسلامی بینکاری‘‘ از رفقائے دارالافتاء جامعہ علوم اسلامیہ بنوری ٹاؤن ، مطبوعہ مکتبہ بینات۔
فتاوی شامی میں ہے:
“(قوله: كل قرض جرّ نفعًا حرام) أي إذا كان مشروطًا كما علم مما نقله عن البحر.”
(کتاب البیوع،فصل فی القرض، مطلب كل قرض جر نفعا حرام، ج : 5، ص : 166 ،ط: سعید)
فقط واللہ اعلم
دارالافتاء :
جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن
معاملات
اسلامی بینکاری
2025-09-30 17:26:50
یہ اصل سوال اور اس کا متعلقہ جواب ہے۔ جواب میں درج ماخذ، حوالہ اور شرائط ملحوظ رکھیں۔ کسی نئے یا مختلف معاملے کے لیے دارالافتاء سے رجوع کریں۔
