شرعی سوال و جواب
مسجد میں حجامہ لگانا
سوال
مسجد میں حجامت (خون نکالنا) کرنا کیسا ہے؟ اور اگر مسجد میں بڑا پلاسٹک بچھایا جائے اور اس پر چادر بچھائی جائے اس پر بیٹھ کر حجامت کی جائی کیسا ہے اور کیا یہ مسجد کے آداب کے خلاف ہے یا نہیں؟
جواب
مسجد میں حجامہ لگانا درست نہیں۔ اس لیے کہ اس میں قصداً خون نکالا جاتا ہے، اور جسم سے بہنے والا خون چونکہ نجس ہےاورمسجد میں قصداً نجاست لے کر آنا جائز نہیں۔چاہے کوئی چٹائی وغیرہ بچھائی جائے یا نہیں۔
موسوعۃ فقہیۃ کویتیۃ میں ہے:
“ويجب أن ينزه المسجد عن الحجامة فيه .”
(الموسوعة الفقهية الكويتية، احتجام، الحكم الإجمالي، ج2، ص69، ط: دارالسلاسل – الكويت)
فتاویٰ شامی میں ہے:
“فلو طاف وعلى ثوبه نجاسة أكثر من الدرهم لا يلزمه شيء بل يكره لإدخال النجاسة المسجد. اهـ.”
( رد المحتار على الدر المختار، كتاب الحج، 2/ 469، ط: سعيد)
فقط والله أعلم
دارالافتاء :
جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن
نماز
مسجد میں ممنوع افعال
2025-09-25 23:54:30
یہ اصل سوال اور اس کا متعلقہ جواب ہے۔ جواب میں درج ماخذ، حوالہ اور شرائط ملحوظ رکھیں۔ کسی نئے یا مختلف معاملے کے لیے دارالافتاء سے رجوع کریں۔
