شرعی سوال و جواب

منفرد کو بھولنے کی بیماری کی وجہ سے نماز میں رکعات کی تعداد بتانے کی صورت میں نماز کا حکم

منفرد کو بھولنے کی بیماری کی وجہ سے نماز میں رکعات کی تعداد بتانے کی صورت میں نماز کا حکم


سوال

 ایک منفرد آدمی ہے جو کہ مریض ہے،  لیکن نماز میں رکعات کی تعداد کو بھول جاتا ہے کیا ایسے آدمی کو لقمہ دینا جائز ہوگا ؟ اگر نہیں تو نماز پڑھنے کی کیا صورت ہوگی۔ براہِ کرم رہنمائی فرمائیں۔

جواب

صورتِ مسئولہ میں منفرد (تنہا نماز پڑھنے والا) شخص اگر ایسا مریض ہے جو واقعتاً نماز پڑھتے ہوئے تعداد رکعات بھول جاتا ہے تو ساتھ میں بیٹھے ہوئے شخص کی طرف سے رکعات کی تعداد بتانا جائز ہے، اور مذکورہ شخص کی نماز ہو جائے گی۔ 

نفع المفتى والسائل میں ہے:

“الاسْتِفْسَارُ : مريض يشتبه عليه أعداد الركعات بسبب شدة المرض، أولنعاس يلحقه، فيلقنه غيره، هل يجزيه؟

الاسْتِبْشَارُ : يُجْزِيه؛ لأَنَّ التَّلقين من الغير، وإن كان مفسداً، لكـــن الضرورات تبيح المحظورات.

في القنية»: (شم) : أي شرف الأئمةِ المَكِّي: مريض يشتبه عليه أعداد الركعات والسجداتِ لايلزمه الأداء، و لو أداها بتلقين غيره، ينبغي أن يُجزيه.

(قع): أي قاضي عبد الجبار : مصل أقعد عند نفسه إنساناً ليخبره إذا سَهَـى عـن الركوع و السجود ، يُجزيه إذا لم يمكنه إلا بهذا. انتهى.”

(کتاب الصلوة، باب مايتعلق بالأعذار المسقطة لأركان الصلوات، ص:374، ط: دارالفاروق)

فقط واللہ اعلم


دارالافتاء :
جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


نماز
نماز توڑنے والی اشیاء
2025-10-17 16:50:56

یہ اصل سوال اور اس کا متعلقہ جواب ہے۔ جواب میں درج ماخذ، حوالہ اور شرائط ملحوظ رکھیں۔ کسی نئے یا مختلف معاملے کے لیے دارالافتاء سے رجوع کریں۔