شرعی سوال و جواب
میت کے گھر تین دن قرآن خوانی اور اس کے ساتھ کھانے/دعوت کرنا خود ساختہ رسم ہے
میت کے گھر تین دن قرآن خوانی اور اس کے ساتھ کھانے/دعوت کرنا خود ساختہ رسم ہے
سوال
کسی شخص کی وفات ہو جاۓ تو اس گھر میں تین دن قرآن خوانی ہوتی ہے اور اس گھر کھانا پینا چلتا ہے۔اس کا حکم کیا ہے؟
جواب
میت کے گھر تین دن قرآن خوانی خود ساختہ رسم / بدعت ہے، شریعتِ مطہرہ میں اس کا کوئی تصور نہیں۔ نیز میت کے گھر کھانے سے بھی احتراز ضروری ہے۔
فتاوی شامی میں ہے:
“مطلب في كراهة الضيافة من أهل الميت…
وقال أيضاً:ويكره اتخاذ الضيافة من الطعاممن أهل الميت؛ لأنه شرع في السرور لا في الشرور، وهي بدعة مستقبحة. وروى الإمام أحمد وابن ماجه بإسناد صحيح عن جرير بن عبد الله قال: ” كنا نعد الاجتماع إلى أهل الميت وصنعهم الطعام من النياحة “. اهـ. وفي البزازية: ويكره اتخاذ الطعام في اليوم الأول والثالث وبعد الأسبوع، ونقل الطعام إلى القبر في المواسم، واتخاذ الدعوة لقراءة القرآن وجمع الصلحاء والقراء للختم أو لقراءة سورة الأنعام أو الإخلاص”.
(کتاب الصلاة، باب صلاة الجنازة، ج:2، ص:240، ط سعید)
فقط والله أعلم
دارالافتاء :
جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن
جنائز
میت کے سوئم، چہلم اور قرآن خوانی وغیرہ کے احکام
2025-10-12 14:01:47
یہ اصل سوال اور اس کا متعلقہ جواب ہے۔ جواب میں درج ماخذ، حوالہ اور شرائط ملحوظ رکھیں۔ کسی نئے یا مختلف معاملے کے لیے دارالافتاء سے رجوع کریں۔
