شرعی سوال و جواب
میسج کے سلام کا جواب واجب ہے
سوال
کیا میسج پربھی سلام کا جواب دینا فرض ہے؟
جواب
صورتِ مسئولہ میں میسج کے ذریعے کیے گئے سلام کا جواب زبان سے یا میسج کے ذریعے لکھ کر دینا واجب ہے، اگر میسج کا جواب تحریری نہیں دینا ہے تو سلام کا جواب زبان سے دے دیا جائے، اور اگر میسج کا جواب دینا ہے تو پھر زبان سے سلام کا جواب دینے کے بجائے لکھ کر جواب دے۔
الدرالمختار میں ہے:
“ويجب رد جواب كتاب التحية كرد السلام”.
وفی حاشیتہ لابن عابدین:
“(قوله ويجب رد جواب كتاب التحية) لأن الكتاب من الغائب بمنزلة الخطاب من الحاضر مجتبى والناس عنه غافلون ط. أقول: المتبادر من هذا أن المراد رد سلام الكتاب لا رد الكتاب. لكن في الجامع الصغير للسيوطي رد جواب الكتاب حق كرد السلام قال شارحه المناوي: أي إذا كتب لك رجل بالسلام في كتاب ووصل إليك وجب عليك الرد باللفظ أو بالمراسلة”.
(کتاب الحضر والإباحة، فصل فی البیع، ج:6، ص:415، ط:سعید)
فقط والله أعلم
دارالافتاء :
جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن
حقوق و آدابِ معاشرت
سلام کے احکام و آداب
2025-10-17 22:23:48
یہ اصل سوال اور اس کا متعلقہ جواب ہے۔ جواب میں درج ماخذ، حوالہ اور شرائط ملحوظ رکھیں۔ کسی نئے یا مختلف معاملے کے لیے دارالافتاء سے رجوع کریں۔
