سوال

نابالغ کی تلقین؟

جواب

سوال نامکمل ہے ، اگر مقصود یہ پوچھناہے کہ نابالغ کی قبر پر تلقین  کا کیا حکم ہے ؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ صحیح قول کے مطابقنابالغ سے  چوں کہ قبر میں سوال نہیں کیا جائے گا؛ اس لیے  نابالغ   كی قبر  پرتلقین کی ضرورت نہیں ہے(اور اگر سوال سے مقصود کچھ اورہو تو وہ لکھ کر دوبارہ سوال کیجیے)

النہر الفائق میں ہے:

“ومن لم يسأل ينبغي أن لايلقن، وقد اختلف في الصبي فجزم المصنف في (العمدة) بأنه يسأل، والأصح: أنه لايسأل، وكذلك النبي، وخص ذلك في (المسايرة) لابن الهمام بأطفال المؤمنين، فقال: الأصح: أن الأنبياء لايسألون ولا أطفال المؤمنين.”

(النهر الفائق: كتاب الصلاة، باب صلاة الجنائز (1/ 381)،ط.  دار الكتب العلمية)

فقط واللہ أعلم


دارالافتاء :
جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


جنائز
میت دفن کرنے کے احکام
2025-09-27 14:22:54

Ask Fatwa

Fill out this field
Please enter a valid email address.
Fill out this field
Fill out this field