شرعی سوال و جواب

ناپاک حصہ معلوم نہ ہو تو کپڑا پاک کرنے کا طریقہ

ناپاک حصہ معلوم نہ ہو تو کپڑا پاک کرنے کا طریقہ


سوال

اگر کسی کپڑے کا کوئی حصہ ناپا ک ہوجائے،لیکن نجاست کا نشان وغیرہ ختم ہونےکی وجہ سے یہ معلوم نہ ہوسکے کہ کپڑے کا کون سا حصہ ناپاک تھا تو کیا اس صورت میں کپڑ اپاک کرنے کےلیے پوراکپڑا دھونا ضروری ہے ؟

جواب

صورت مسئولہ میں بہتر یہ ہے کہ ایسا کپڑا مکمل دھو لیا جائے تاہم اگر ایسے کپڑے کے کسی ایک حصے کو بھی دھولیا جائے تو کپڑا پاک شمار ہوگا۔

فتاوی شامی میں ہے:

“(وغسل طرف ثوب) أو بدن (أصابت نجاسة محلا منه ونسي) المحل (مطهر له وإن) وقع الغسل (بغير تحر) وهو المختار.”

(كتاب الطهارة، ج1، ص327، سعيد)

فقط والله أعلم


دارالافتاء :
جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


طہارت
نجاست سے پاکی
2025-09-27 04:25:32

یہ اصل سوال اور اس کا متعلقہ جواب ہے۔ جواب میں درج ماخذ، حوالہ اور شرائط ملحوظ رکھیں۔ کسی نئے یا مختلف معاملے کے لیے دارالافتاء سے رجوع کریں۔