شرعی سوال و جواب

نماز میں ایک آیت چھوڑ دینا

سوال

اگر سورۃالنبا میں” الذی ھم فیه مختلفون”چھوٹ گئی تو کیا نماز ہوجائےگی؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں چوں کہ  مذکورہ آیت کے چھوڑنے سے معنی میں کوئی فرق پیدا نہیں ہوا ،اس لیے نمازہوجائے گی۔

فتاوی شامی میں ہے :

“ولوزاد کلمةً أو نقص کلمة أو نقص حرفًا أو قدّمه أو بدله بآخر … لم تفسد مالم یتغیر المعنی”.

(كتاب الصلوة ،با ب القراءة ،ج:1 ،ص:633 ،ط:سعيد )

وفيه ايضاّ :

“يكره أن يفتح من ساعته كما يكره للإمام أن يلجئه إليه، بل ينتقل إلى آية أخرى لايلزم من وصلها ما يفسد الصلاة أو إلى سورة أخرى أو يركع إذا قرأ قدر الفرض كما جزم به الزيلعي.”

(كتاب الصلوة ،باب القراءة،ض:1 ،ص:623 ،ط:سعيد)

 فقط والله أعلم 


دارالافتاء :
جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


نماز
قراءت کی واجب مقدار
2025-09-30 13:37:11

یہ اصل سوال اور اس کا متعلقہ جواب ہے۔ جواب میں درج ماخذ، حوالہ اور شرائط ملحوظ رکھیں۔ کسی نئے یا مختلف معاملے کے لیے دارالافتاء سے رجوع کریں۔