شرعی سوال و جواب

والدہ کے انتقال کے بعد نانا کے انتقال کی صورت میں نواسوں/نوسیوں کا نانا کی میراث میں حصہ

والدہ کے انتقال کے بعد نانا کے انتقال کی صورت میں نواسوں/نوسیوں کا نانا کی میراث میں حصہ


سوال

ایک خاتون کا والدکی زندگی میں انتقال ہوا ،بعد میں والد کا انتقال ہوا، اب کیا نواسوں/نواسیوں کا نانا کی میراث میں حصہ ہوگا؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں، چوں کہ خاتون کا انتقال اپنے والد (یعنی بچوں کے نانا) کی زندگی میں ہو گیا تھا، اس لیے نانا کی میراث میں مرحومہ بیٹی یا اس کی اولاد (نواسوں/نواسیوں) کا کوئی شرعی حصہ نہیں ہوگا ۔ نانا مرحوم  کا ترکہ ان کے زندہ بیٹے بیٹیوں اور بیوہ اگر حیات ہو،   میں تقسیم ہوگا، اور نواسے/نواسیاں اس میں حق دار نہیں ہوں گے، البتہ اگر نانا کے شرعی ورثاء اپنی خوشی سے انہیں کچھ دینا چاہیں تو دے سکتے ہیں، لیکن شرعاً ان پر لازم نہیں۔

رد المحتار میں ہے:

“وشروطه ثلاثة: موت مورث حقيقةً أو حكمًا كمفقود أو تقديرًا كجنين فيه غرة، ووجود وارثه عند موته حيًّا حقيقةً أو تقديرًا كالحمل، والعلم بجهل إرثه”.

(كتاب الفرائض، ج:6، ص:756، ط:سعید)

فقط واللہ اعلم


دارالافتاء :
جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


معاملات
استحقاق اور عدم استحقاق وراثت
2025-09-24 23:14:31

یہ اصل سوال اور اس کا متعلقہ جواب ہے۔ جواب میں درج ماخذ، حوالہ اور شرائط ملحوظ رکھیں۔ کسی نئے یا مختلف معاملے کے لیے دارالافتاء سے رجوع کریں۔