شرعی سوال و جواب
والد کی مطلقہ بیوی کی بیٹی(ربیبہ) سے نکاح کا حکم
والد کی مطلقہ بیوی کی بیٹی(ربیبہ) سے نکاح کا حکم
سوال
میرے چچا کی بیٹی کے ساتھ میرا رشتہ ہوا تھا ،میرے چچا نے میری چچی کو طلاق دے دی اورپھر میری چچی نے حلالہ کے لیے میرے والد سے نکاح کر کے طلاق لے لی، اور پھر دوبارہ چاچا سے شادی کر لی، کیا اب میں چاچا کی بیٹی سے رشتہ کر سکتا ہوں؟
جواب
صورتِ مسئولہ میں سائل کے چچا نے جب سائل کی چچی کو طلاق دی اور اس کے بعد سائل کی چچی نے سائل کے والد صاحب سے نکاح کیا ،اور پھر طلاق لے کر دوبارہ سائل کے چچا سے نکاح کرلیا،تو ایسی صورت میں سائل کی چچی اس کے والد کی مطلقہ ہوئیں اور اپنے والد کی مطلقہ بیوی کے سابقہ شوہر کی بیٹی سے نکاح شرعاً جائز ہے ،لہذا سائل کے لیے اپنے چچا کی بیٹی (جو کہ والد کی مطلقہ بیوی کی بیٹی بھی ہے) سے نکاح جائز ہے ،اس میں شرعاً کوئی حرج نہیں ۔
فتاویٰ شامی میں ہے:
“(قوله: وأما بنت زوجة أبيه أو ابنه فحلال) وكذا بنت ابنها بحر.
قال الخير الرملي: ولا تحرم بنت زوج الأم ولا أمه ولا أم زوجة الأب ولا بنتها ولا أم زوجة الابن ولا بنتها ولا زوجة الربيب ولا زوجة الراب.”
(كتاب النكاح، فصل في المحرمات، ج:3، ص:31، ط: سعيد)
فقط واللہ اعلم
دارالافتاء :
جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن
نکاح
غیر محرمات
2025-10-08 11:54:30
یہ اصل سوال اور اس کا متعلقہ جواب ہے۔ جواب میں درج ماخذ، حوالہ اور شرائط ملحوظ رکھیں۔ کسی نئے یا مختلف معاملے کے لیے دارالافتاء سے رجوع کریں۔
