شرعی سوال و جواب
وتر میں غلطی سے دو رکعات پر سلام پھیر دیا تو کیا حکم ہے؟
وتر میں غلطی سے دو رکعات پر سلام پھیر دیا تو کیا حکم ہے؟
سوال
کوئی شخص وتر کی دورکعت پر دونوں طرف سلام پھیر دے اور تین بار استغفر اللہ بھی کہے پھر یاد آئے تو کیا کرے ؟ رہنمائی فرمائیں
جواب
وتر کی دوسری رکعت میں غلطی سے سلام پھیر دیااور سلام پھیر نے کے بعد نماز کے منافی کوئی کام نہیں کیا(مثلاً: بات چیت، یا سینہ قبلے کی طرف سے پھیرے) تو اس صورت میں دوبارہ کھڑا ہو جائے اور ایک رکعات اور ملا لے اور آخر میں سجدہ سہو کر لے تو نماز درست ہو جائے گی ۔
بدائع الصنائع میں ہے:
“ولو سلم مصلي الظهر على رأس الركعتين على ظن أنه قد أتمها، ثم علم أنه صلى ركعتين، وهو على مكانه ، يتمها ويسجد للسهو أما الإتمام فلأنه سلام سهو فلا يخرجه عن الصلاة. وأما وجوب السجدة فلتأخير الفرض وهو القيام إلى الشفع الثاني”.
(جلد۱، ص:۱۶۴، ط: دار الفکر بیروت)
فقط والله اعلم
دارالافتاء :
جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن
نماز
نماز میں شک واقع ہونا
2025-09-27 14:36:09
یہ اصل سوال اور اس کا متعلقہ جواب ہے۔ جواب میں درج ماخذ، حوالہ اور شرائط ملحوظ رکھیں۔ کسی نئے یا مختلف معاملے کے لیے دارالافتاء سے رجوع کریں۔
