شرعی سوال و جواب

وسوسوں سے حفاظت کا وظیفہ

سوال

میری کوئی چھ  مہینےسےنوکری نہیں تھی،ا ب اللہ کے فضل سے مل گئی ہے،لیکن اس عرصے کے دوران میری وائف لوگوں کی باتیں سن سن کے ذہنی تناؤ کا شکار ہوگئی ہے،اب اس کو کچھ اچھا نہیں لگتا، بس ایک ہی سوچ آتی ہے ،میں مر جاؤں، میں خودکشی کرلوں ،اس کے لیے کوئی علاج بتائیں ۔

جواب

سائل کی بیوی کو چاہیےکہ اللہ تعالیٰ کی ذات پر یقین رکھے،مذکورہ خیالات کی طرح خیالات دل میں نہ لائیں، نمازوں کی پابندی کرے اور  درج ذیل آیت کو کثرت  سےپڑھا کرے، ان شاء اللہ تعالیٰ مذکورہ وسوسوں اور دیگر نامناسب سوچ سے محفوظ رہے گی:

“﴿رَبِّ أَعُوذُ بِكَ مِنْ هَمَزَاتِ الشَّيَاطِينِ ، وَأَعُوذُ بِكَ رَبِّ أَنْ يَحْضُرُونِ﴾.”( سورہ مومنون ، آیت 97، 98)

نیز  اللہ تعالیٰ کا ذکر  خصوصاً کلمہ طیبہ بکثرت پڑھنے کااور

“(1)  أعُوذُ بِاللھ اور(2)” اٰمَنْتُ بِاللّٰهِ وَرَسُوْلِه.”

 کا  ورد کرنےکا اہتمام کریں، ان شاء اللہ تعالیٰ اطمینانِ قلب نصیب ہوجائےگا۔

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

“اَلَا بِذِكْرِ اللّٰهِ تَطْمَىٕنُّ الْقُلُوْبُؕ.”(الرعد:28)

ترجمہ:” خوب سمجھ لو کہ اللہ کےذکر سےدلوں کو اطمینان ہوجاتاہے۔”

فقط واللہ اعلم


دارالافتاء :
جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


علوم و فنون
اوراد ووظائف
2025-11-11 22:33:16

یہ اصل سوال اور اس کا متعلقہ جواب ہے۔ جواب میں درج ماخذ، حوالہ اور شرائط ملحوظ رکھیں۔ کسی نئے یا مختلف معاملے کے لیے دارالافتاء سے رجوع کریں۔