وکیل بالزکاۃ کا زکوۃ کی رقم خود استعمال کرنے کا حکم


سوال

مجھےدوستوں نے ریال کی صورت میں  زکوٰۃ کی رقم دی ہے ،جو کہ غریبوں کے لیے ہے،جب کہ میرے اوپر بھی قرض ہے اور گاؤں میں والدین کی زمین جو مشترکہ ہے ،اس  کی کچھ خاصی پراپرٹی بھی نہیں  ہے۔

پوچھنایہ ہےکہ کیامیں  ان دوستوں کی  رقم جوانہوں نےمجھے دی ہے، میں خوداستعمال کرسکتا ہوں؟ کیوں کہ میں بھی بہت ضرورت مندہوں،جب کہ  ان کو یہ پتہ نہیں ہے کہ ان کی رقم  کہاں  استعمال ہوگی ۔

جواب

صورتِ مسئولہ میں اگر سائل کو زکوۃ  کی ادائیگی کا وکیل بنایا ہے،تو  اس کے لیے  زکوۃ کا مال  اپنے استعمال میں لانا جائز نہیں ہے، اس کے پاس وہ مال بطورِ امانت ہے،   جسے مذکورہ لوگوں کی ہدایت کے مطابق صرف کرنا لازم ہوگا، تاہم اگر مذگورہ  لوگوں نے سائل  کو  مکمل اختیار دے دیا ہو ،اور یوں  کہہ دیا ہو کہ “جو چاہے کرو ،جسے چاہے دےدو”تو ایسی صورت میں اگر سائل مستحق زکوۃ ہے، تو خود سائل کے لیے مذکورہ زکوة کی رقم کا استعمال کرنا جائز ہوگا ورنہ نہیں۔

 البحر الرائق شرح كنز الدقائق میں ہے:

“وللوكيل بدفع ‌الزكاة أن يدفعها إلى ولد نفسه كبيرا كان أو صغيرا، وإلى امرأته إذا كانوا محاويج، ولا يجوز أن يمسك لنفسه شيئا اهـ.إلا إذا قال ضعها حيث شئت فله أن يمسكها لنفسه كذا في الولوالجية.”

(كتاب الزكاة،‌‌ شروط أداء الزكاة، ج:2، ص:227، ط:دار الكتاب الإسلامي)

فتاوی شامی میں ہے:

“وللوكيل أن يدفع لولده الفقير وزوجته لا لنفسه إلا إذا قال: ربها ضعها حيث شئت.”

‌‌(كتاب الزكاة، ج:2، ص،269، ط: سعید)

فقط واللہ اعلم


دارالافتاء :
جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


زکات
توکیلِ زکوٰۃ کا حکم و شرائط
2025-10-17 16:39:06

Ask Fatwa

Fill out this field
Please enter a valid email address.
Fill out this field
Fill out this field