شرعی سوال و جواب

پاکی کے بعد دوپہر زوال کے بعد غسل کرنے سے روزہ کا حکم

پاکی کے بعد دوپہر زوال کے بعد غسل کرنے سے روزہ کا حکم


سوال

اگر سحری سے پہلے عورت کو سفیدی آ جائے اور وہ غسل کیے بغیر روزہ رکھ لے تو کیا زوال سے پہلے غسل کرنا ضروری ہے ؟ اگر زوال سے پہلے غسل نہ کر سکے اور زوال کے بعد غسل کرے تو کیا اس کا روزہ ہو جائے گا؟

جواب

اگر کوئی عورت سحری کا وقت ختم ہونے سے پہلے حیض سے پاک ہوجائے اور غسل کیے بغیر روزہ کی نیت کرلے تواس کا روزہ درست ہوجائے گا، ایسی عورت کو چاہیے کہ فجر کا وقت ختم ہونے سے قبل غسل کرلے تاکہ نماز فجر اپنے وقت پر ادا کرسکے،غسل میں اتنی تاخیر کرنا کہ  فجر کی  نماز قضا ہوجائے گناہ کا باعث ہے۔اس لیے بلاعذر کے غسل میں تاخیر نہیں کرنی چاہیے ، اگرچہ دوپہر کو زوال کے بعد بھی غسل کرنے سے روزہ ادا ہوجائے گا۔

فتاوی عالمگیری میں ہے:

“ومن أصبح جنبًا أو احتلم في النهار لم يضره، كذا في محيط السرخسي.”

(كتاب الصوم ، الباب الثالث فيما يكره للصائم وما لا يكره ،ج:1،ص:200،ط: رشيديه)

وفیہ ایضاً:

“الجنب إذا أخر الاغتسال إلى وقت الصلاة لايأثم، كذا في المحيط”.

(کتاب الطہارۃ،ج:1،ص:16،ط:رشیدیہ)

فقط واللہ اعلم 


دارالافتاء :
جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


روزہ
روزہ کے آداب
2025-10-08 08:40:03

یہ اصل سوال اور اس کا متعلقہ جواب ہے۔ جواب میں درج ماخذ، حوالہ اور شرائط ملحوظ رکھیں۔ کسی نئے یا مختلف معاملے کے لیے دارالافتاء سے رجوع کریں۔