سوال

 آج کل پیچ فون کی خرید وفروخت ہو رہی ہے، پیچ والا فون ایک ایسا فون ہے جس کا اصل IMEI کسی دوسرے سستے فون کے IMEI سے تبدیل کیا جاتا ہے، تاکہ PTA کی DUTY بچائی جا سکے ، قانوناً یہ جائز نہیں ہے، کیا ایسا فون خریدنا شرعاً درست ہے؟

جواب

صورت ِ مسئولہ میں مذکورہ فون کی خریدو فروخت کرنا چوں کہ قانوناً جرم ہے ،جس کی وجہ سے انسان کی عزت پامال ہونے کا خطرہ ہے ؛لہذا اس قسم کے فون کی خرید وفروخت سے اجتناب کرنا چاہیے ۔

تفسیر مظہری میں ہے :

“أَنْفِقُوا أموالكم فِي سَبِيلِ اللَّهِ فى الجهاد وَلا تُلْقُوا بِأَيْدِيكُمْ،قيل: الباء زائدة وعبر بالأيدي عن الأنفس وقيل: فيه حذف اى لا تلقوا أنفسكم بايديكم يعنى باختياركم والإلقاء طرح الشيء وعدى بالى لتضمن معنى الانتهاء- والقى بيده لا يستعمل الا في الشر‌إِلَى ‌التَّهْلُكَةِ اى الهلاك- قيل: كل شىء يصير عاقبته الى الهلاك فهو التهلكة وقيل: التهلكة ما يمكن الاحتراز عنه والهلاك ما لا يمكن الاحتراز عنه”.

(ج:1،ص:215،مکتبۃ الرشدیۃ)

فقط واللہ اعلم


دارالافتاء :
جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


بیوع
بیع کی تعریف اور ارکان
2025-09-30 14:14:56

Ask Fatwa

Fill out this field
Please enter a valid email address.
Fill out this field
Fill out this field