سوال
کیاچائنا کے مال کو ملائیشیا کا کہ کر فروخت کرسکتے ہیں ؟اگر نہیں توکن صورتوں میں جائز ہے؟
جواب
چائنا کے مال کو چائنا کا کہہ کر ہی فروخت کیا جائے ،چائنا کے مال کو ملائشیا کا کہنا یا کسی اور ملک کا کہنا’’ جھوٹ ‘‘ہے اور جھوٹ بولنا یا لکھنا شرعًا ناجائز ہے ۔
مسند احمد میں ہے:
“حدثنا وكيع قال: سمعت الأعمش قال: حدثت عن أبي أمامة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: يطبع المؤمن على الخلال كلها إلا الخيانة والكذب.”
( مسند أبي أمامة،504/36، ط: مؤسسة الرسالة)
صحيح البخاري میں ہے:
” حدثنا سليمان أبو الربيع قال: حدثنا إسماعيل بن جعفر قال: حدثنا نافع بن مالك بن أبي عامر أبو سهيل، عن أبيه، عن أبي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال:(آية المنافق ثلاث: إذا حدث كذب، وإذا وعد أخلف، وإذا اؤتمن خان)”.
( باب: علامة المنافق،21/1،ط : دار ابن كثير)
فقط والله أعلم
دارالافتاء :
جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن
بیوع
حرام کمائی کی صورتیں
2025-10-08 05:18:00
