شرعی سوال و جواب
چاشت کی نماز کا وقت
سوال
چاشت کی نماز کے اوقات کار کیا ہیں؟ اور مجھے کسی نے کہا کہ چاشت کی نماز ،چالیس سال کی عمر کے بعد فرض ہو جاتی ہے ، کیا یہ بات درست ہے؟
جواب
صورت مسئولہ میں چاشت کا وقت آفتاب اچھی طرح طلوع ہونے کے بعد(طلوع ہونے کے تقریباً 15 منٹ بعد) سے زوال سے پہلے تک باقی رہتا ہے، لیکن اس کا افضل وقت یہ ہے کہ ایک چوتھائی دن گزرنے کے بعد چاشت کی نماز پڑھی جائے۔
چاشت کی نماز نفل نماز ہے یہ کہنا کہ چالیس سال بعد فرض ہو جاتی ہےتو یہ بات بالکل غلط ہے ۔
الدر المختار وحاشية ابن عابدين میں ہے :
“(و) ندب (أربع فصاعداً في الضحى) على الصحيح من بعد الطلوع إلى الزوال، ووقتها المختار بعد ربع النهار.
(قوله: من بعد الطلوع) عبارة شرح المنية: من ارتفاع الشمس. (قوله: ووقتها المختار) أي الذي يختار ويرجح لفعلها، وهذا عزاه في شرح المنية إلى الحاوي، وقال: لحديث زيد بن أرقم أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال : «صلاة الأوابين حين ترمض الفصال». رواه مسلم. وترمض بفتح التاء والميم: أي تبرك من شدة الحر في أخفافها.”
(کتاب الصلاۃ،باب الوتر والنوافل،2/ 22،سعید)
فقط واللہ اعلم
دارالافتاء :
جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن
نماز
سنن و نوافل
2025-10-17 22:31:48
یہ اصل سوال اور اس کا متعلقہ جواب ہے۔ جواب میں درج ماخذ، حوالہ اور شرائط ملحوظ رکھیں۔ کسی نئے یا مختلف معاملے کے لیے دارالافتاء سے رجوع کریں۔
