شرعی سوال و جواب

ڈھائی فی صد زکوٰۃ کے ساتھ زیادہ ادا کرے تو زائد رقم کی کیا مد ہو گی؟

ڈھائی فی صد زکوٰۃ کے ساتھ زیادہ ادا کرے تو زائد رقم کی کیا مد ہو گی؟


سوال

کوئی شخص اگر اپنی ڈھائی فی صد زکوٰۃ کے ساتھ زیادہ ادا کرےتو زائد رقم کی کیا مد ہو گی؟

جواب

زکوٰۃ کی متعین (ڈھائی فی صدکی)مقدار سے زائد جو رقم دی جائے وہ نفلی صدقہ کی مد میں شمار ہوگی۔

فتاویٰ شامی میں ہے:

“(هي) لغة الطهارة والنماء، وشرعا (تمليك)….جزء مال) خرج المنفعة، فلو أسكن فقيرا داره سنة ناويا لا يجزيه (عينه الشارع) وهو ربع عشر نصاب حولي خرج النافلة والفطرة.”

(کتاب الزکوٰۃ، 2/ 256، ط:سعید)

فقط والله أعلم


دارالافتاء :
جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


زکات
نفلی صدقات
2025-10-08 06:02:08

یہ اصل سوال اور اس کا متعلقہ جواب ہے۔ جواب میں درج ماخذ، حوالہ اور شرائط ملحوظ رکھیں۔ کسی نئے یا مختلف معاملے کے لیے دارالافتاء سے رجوع کریں۔