شرعی سوال و جواب

ڈیجیٹل تصویر کو دیکھ کر ماشاء اللہ کہنا

سوال

کسی کی فیس بک پر تصویر دیکھ کر ماشاءاللہ کہنا یا ماشاءاللہ کا کمنٹ کرنا جائز ہے ؟

جواب

کسی بھی جان دار کی تصویر بنانا اور اسے سوشل میڈیا کے کسی بھی پلیٹ فارم (چاہے فیس بک ہو یا واٹس ایپ ہو یا کچھ اور) پر اَپ لوڈ کرنا جائز نہیں ہے، اور اگر کوئی یہ ناجائز کام کرے تو اس ناجائز کام پر  ماشاء اللہ کہنا یا لکھنا بھی ناجائز ہے۔

البحر الرائق میں ہے:

“وظاهر كلام النووي في شرح مسلم الإجماع على تحريم تصويره صورة الحيوان وأنه قال قال أصحابنا وغيرهم من العلماء تصوير صور الحيوان حرام شديد التحريم وهو من الكبائر لأنه متوعد عليه بهذا الوعيد الشديد المذكور في الأحاديث يعني مثل ما في الصحيحين عنه صلى الله عليه وسلم «أشد الناس عذابا يوم القيامة المصورون يقال لهم أحيوا ما خلقتم» ثم قال وسواء صنعه لما يمتهن أو لغيره فصنعته حرام على كل حال لأن فيه مضاهاة لخلق الله تعالى وسواء كان في ثوب أو بساط أو درهم ودينار وفلس وإناء وحائط وغيرها اهـ”

(باب ما يفسد الصلاة فيها وما لا يفسد فيها،ج:2،ص:29،ط:دار الکتاب الاسلامي)

فقط واللہ اعلم


دارالافتاء :
جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


حظر و اباحت
تصویر کے احکام / حدود
2025-10-08 07:18:23

یہ اصل سوال اور اس کا متعلقہ جواب ہے۔ جواب میں درج ماخذ، حوالہ اور شرائط ملحوظ رکھیں۔ کسی نئے یا مختلف معاملے کے لیے دارالافتاء سے رجوع کریں۔