سوال

کان میں دوا ڈالنے سے روزہ کیوں ٹوٹتا ہے جب کہ آنکھ میں دوا ڈالنے سے نہیں ٹوٹتا؟

جواب

فقہاءِ کرام کی تصریحات کے مطابق کان میں ڈالی ہوئی دوا دماغ میں براہِ راست یا بالواسطہ معدہ میں پہنچ جاتی ہے، جس سے روزہ فاسد ہوجاتاہے،البتہ آنکھ میں ڈالی ہوئی دوا  براہ راست دماغ یا معدہ تک نہیں پہنچتی بلکہ مسامات کے ذریعہ پہنچتی ہے  ؛اس لیے اس سے روزہ فاسد نہیں ہوتا ۔

فتاوی ہندیہ میں ہے :

“ومن احتقن أو استعط أو أقطر في أذنه دهنا أفطر، ولا كفارة عليه هكذا في الهداية۔۔۔۔۔۔ولو أقطر في أذنه الماء لا يفسد صومه كذا في الهداية. وهو الصحيح هكذا في محيط السرخسي.”

(کتاب الصوم ،الباب الرابع فیما یفسد وفیما لایفسد،ج:1،ص:204،دارالفکر)

فقط واللہ اعلم 


دارالافتاء :
جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


روزہ
دوا کا استعمال
2025-09-27 07:57:22

Ask Fatwa

Fill out this field
Please enter a valid email address.
Fill out this field
Fill out this field