سوال
ایک ایسی دکان جو ہماری ملکیت ہے،لیکن مجھے وراثت میں ملی ہے، لیکن وہ ٹھیکے پر دی ہوئی ہے تو اس دکان سے جو ٹھیکہ آتا ہے وہ تمام خرچ ہو جاتا ہے تو کیا اس پر زکوٰۃ ہو گی؟ اور وہ دکان پندرہ لاکھ روپے کی ہے، اگر زکوٰۃ ہے تو پھر کتنی ہوگی؟
جواب
ٹھیکہ (اجارہ) پر دی ہوئی دکان کی مالیت پر زکات نہیں ہے، اور مذکورہ دکان سے کرائے وغیرہ کی مد میں حاصل ہونے والی آمدنی (رقم) بھی اگرخرچ ہوجاتی ہے،جمع نہیں رہتی تو اس پر بھی زکات لازم نہیں ہے۔
فتاوی ہندیہ میں ہے:
“ولو اشترى قدورا من صفر يمسكها ويؤاجرها لا تجب فيها الزكاة كما لا تجب في بيوت الغلة.”
(کتاب الزکاۃ،ج1،ص180،ط؛دار الفکر)
فقط واللہ اعلم
دارالافتاء :
جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن
عمومی
وجوب زکوٰۃ
2025-10-08 02:39:31
