صورتِ مسئولہ میں چونکہ مذکورہ زمین اس شخص کی ملکیت نہیں،بلکہ گلی کی زمین ہے جو کہ مشترکہ مفاد کی زمین ہے، اس لیے اس زمین میں دیوار کو آگے بڑھانا اور چھجے کے ساتھ برابر کر کے گھر کو کشادہ کرنا اس کے لیے شرعاً جائز نہیں ہے۔

مشکاۃ المصابیح میں ہے:

“عن سعيد بن زيد قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «من أخذ شبراً من الأرض ظلماً؛ فإنه يطوقه يوم القيامة من سبع أرضين»”.

(مشكاة المصابيح، 1/254، باب الغصب والعاریة، ط: قدیمی)

ترجمہ: حضرت سعید بن زید کہتے ہیں کہ رسول کریم  صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص کسی کی بالشت بھر زمین بھی ازراہِ ظلم لے گا قیامت کے دن ساتوں زمینوں میں سے اتنی زمین اس کے گلے میں بطورِ طوق ڈالی جائے گی۔

فتاوی عالمگیری میں ہے:

“وفي المنتقى إذا أراد أن يبني كنيفا أو ظلة على طريق العامة فإنى أمنعه عن ذلك وإن بنى ثم اختصموا نظرت في ذلك فإن كان فيه ضرر أمرته أن يقلع وإن لم يكن فيه ضرر تركته على حاله وقال محمد – رحمه الله تعالى – إذا أخرج الكنيف ولم يدخله في داره ولم يكن فيه ضرر تركته وإن أدخله داره منع عنه.”

(کتاب الکراھیۃ، الباب التاسع والعشرون فی الانتفاع بالاشیاء المشترکۃ، ج:5، ص:371، ط:دار الفكر بيروت)

فقط واللہ اعلم

عمومی
حقوق
2025-09-25 23:57:18