شرعی سوال و جواب

کن کے لیے وصیت جائز ہے ؟

سوال

وصیت کن لوگوں کے لیے جائز نہیں ہے ؟

جواب

واضح رہے کہ جن لوگوں کا شریعت نے میراث میں حصہ مقررکیا ہے ان لوگوں کے لیے وصیت شرعا ًمعتبر نہیں ،اسی طرح کسی اور ( غیر )کے لیے ایک تہائی مال سے زائد  کی وصیت کرنا بھی جائز نہیں ،البتہ اگر تمام عاقل بالغ ورثاء اس پر راضی ہوں تو پھر جائز ہے ۔

فتاوی ہندیہ میں ہے :

“ثم تصح الوصية لأجنبي من غير إجازة الورثة، كذا في التبيين و لاتجوز بما زاد على الثلث إلا أن يجيزه الورثة بعد موته وهم كبار ولا معتبر بإجازتهم في حال حياته، كذا في الهداية … ولا تجوز الوصية للوارث عندنا إلا أن يجيزها الورثة.”

(کتاب الوصیۃ،ج:6،ص:90،دارالفکر)

فقط واللہ اعلم


دارالافتاء :
جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


وصیت
جائز اور ناجائز وصیتیں
2025-09-30 16:42:42

یہ اصل سوال اور اس کا متعلقہ جواب ہے۔ جواب میں درج ماخذ، حوالہ اور شرائط ملحوظ رکھیں۔ کسی نئے یا مختلف معاملے کے لیے دارالافتاء سے رجوع کریں۔