سوال

اللہ تعالیٰ نے نماز، روزہ، حج فرض کیے ہے، اگر نہیں ادا کریں گے تو گناہ ہو گا۔ جھوٹ بولنے اور غیبت سے اللّہ تعالیٰ نے منع فرمایا ہے۔ اگر کوئی شخص سارا دن جھوٹ نہیں بولتا تو  کیا یہ بھی عبادت شمار ہو گا۔

جواب

اگر کسی شخص کو جھوٹ کا موقع ملنے کے باوجود وہ جھوٹ نہیں بولے گا تو ثواب ملے گا، اور عبادت میں شمار ہو گا، اور موقع نہ ملنے کی صورت میں جھوٹ نہ بولنے سے ثواب نہیں ملے گا، باقی مطلق شریعت کی پابندی پر ثواب ملتا رہے گا۔

قرآن شريف ميں ہے:

“وَذَرُوا ‌ظٰهِرَ ‌الاِثمِ وَبَاطِنَهُ.” (سورۃ انعام، آیت:120)

ترجمہ: “اور تم ظاہری گناہ کو بھی چھوڑ دو اور باطنی کو بھی۔”

حدیث شریف میں ہے:

“قال النبي صلى الله عليه وسلم: «على كل مسلم صدقة» … «فيمسك عن الشر فإنه له صدقة».”

(صحیح البخاری، کتاب الادب، باب: کل معروف صدقۃ، جلد:8، صفحہ: 11، طبع: سلطانیہ)

عمدۃ القاری میں ہے:

“‌من ‌هم ‌بسيئة فتركها ابتغاء وجهه كتب له أجرها.”

(کتاب البیوع، باب إذا اشترى شيئا لغيره بغير إذنه فرضي، جلد:12، صفحہ:23، طبع: دار احیاء التراث العربی)

فقط واللہ اعلم


دارالافتاء :
جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


حظر و اباحت
گناہوں کی حدود، صورتیں اور اقسام
2025-09-27 16:14:51

Ask Fatwa

Fill out this field
Please enter a valid email address.
Fill out this field
Fill out this field