شرعی سوال و جواب

کیا دانتوں کے درمیان پھنسے ہوئے گوشت سے غسل جنابت کا اعادہ واجب ہے؟

کیا دانتوں کے درمیان پھنسے ہوئے گوشت سے غسل جنابت کا اعادہ واجب ہے؟


سوال

اگر دانت میں گوشت کا ٹکڑا پھنسا ہوا رہ جائےتو  کیا غسل جنابت کا اعادہ  کرنا واجب ہے یانہیں ؟

جواب

 دانتوں کے درمیان پھنسے ہوئے غذااور گوشت کے ٹکڑے    عام طور پر  پانی کے پہنچنے کو نہیں روکتے،لہذا غسل کا اعادہ واجب نہیں ہے۔

فتح القديرمیں ہے: 

“ولو كان سنه مجوفًا أو بين أسنانه طعام أو درن رطب يجزئه؛ لأن الماء لطيف يصل إلى كل موضع غالبا، كذا في التجنيس”. 

(کتاب الطہارات، فصل في الغسل، ج: 1، ص: 56، ط: دار الفكر)

الفتاوى الهندیة میں ہے:

“ولو كان سنه مجوفا فبقي فيه أو بين أسنانه طعام أو درن رطب في أنفه تم غسله على الأصح، كذا في الزاهدي والاحتياط أن يخرج الطعام عن تجويفه ويجري الماء عليه هكذا في فتح القدير”.

(کتاب الطہارۃ، الفصل الأول في فرائض الغسل، ج: 1، صفحہ: 13، ط: دارالفکر)

فقط واللہ أعلم


دارالافتاء :
جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


طہارت
جنابت کے احکام
2025-10-08 05:31:37

یہ اصل سوال اور اس کا متعلقہ جواب ہے۔ جواب میں درج ماخذ، حوالہ اور شرائط ملحوظ رکھیں۔ کسی نئے یا مختلف معاملے کے لیے دارالافتاء سے رجوع کریں۔