شرعی سوال و جواب

کیا طالب علم کے فیل ہونے کی غلطی استاد پر عائد ہوتی ہے؟

کیا طالب علم کے فیل ہونے کی غلطی استاد پر عائد ہوتی ہے؟


سوال

اگر کوئی طالب علم امتحان میں فیل ہو جائے تو کیا اس کے متعلق استاد جواب دِہ ہو گا؟ کیا اس فیل ہونے کو استاد کی غلطی تصور کیا جائے گا؟ حالانکہ استاد نے سبق ہر ممکن طریقے سے سمجھایا ہو۔ 

جواب

واضح رہے کہ ہر بندہ اپنے کام کا مکلف ہے ، استاد کا کام طالب علم کو اچھے طریقے سے پڑھانا اور سمجھانا ہے، اور شاگرد کا کام اچھے طریقے سے سمجھ کر یاد کرنا ہے، لہذا صورتِ مسئولہ میں اگر واقعۃً استاد نے پڑھانے میں کوئی کوتاہی نہیں کی ہو، اور اپنی طرف سے مکمل سمجھایا ہو، اور استاد مذکورہ کتاب پڑھانے کا اہل بھی ہو تو اگر شاگرد فیل ہوجائے غفلت کی وجہ سے یا غبی ہونے کی وجہ سے تو اس کی ذمہ داری استاد پر عائد نہیں ہوتی، بشرط یہ کہ استاد نے اپنی ذمہ داری مکمل طور پر نبھائی ہو۔

قرآنِ کریم میں ہے:

“لَا يُكَلِّفُ اللَّهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا.” ﴿البقرة: ٢٨٦﴾

ترجمہ:”الله تعالیٰ کسی شخص کو مکلف نہیں بناتا مگر اسی کا جو اس کی طاقت اور اختیار میں ہو.”(بیان القرآن)

الفقہ الاِسلامی واَدلتہ میں ہے:

“والشريعة تفرض التكاليف مشروطة بالقدرة على الوفاء، لقوله تعالى: {‌لايكلف ‌الله ‌نفساً إلا وُسْعها} [البقرة:286/ 2].”

(‌‌القِسْمُ الخامِس: الفقهُ العَّام، ‌‌البَابُ الخامِس:‌‌ القَضاء وطرق إثبات الحقّ، ‌‌‌‌المنهج الإسلامي في الميدان القضائي، ج:8، ص:5925، ط:دار الفكر دمشق)

فتح القدير  میں ہے :

“أن ‌الأجير ‌الخاص هو الذي يستحق الأجر بتسليم نفسه في المدة ، وإن لم يعلم كمن استؤجر شهرا للخدمة أو لرعي الغنم.”

(كتاب الإجارۃ، باب إجارۃ العبد ج:9،ص:140، ط:دار الفكر لبنان)

فتاوی عالمگیریہ  میں ہے:

“ثم الأجرة تستحق بأحد معان ثلاثة إما بشرط التعجيل أو بالتعجيل أو باستيفاء المعقود عليه فإذا وجد أحد هذه الأشياء الثلاثة فإنه يملكها، كذا في شرح الطحاوي.”

(کتاب الإجارۃ، الباب الثانی متی تجب الأجرۃ، ج:4، ص:423، ط:ماجدية)

فقط واللہ أعلم


دارالافتاء :
جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


علوم و فنون
فضائل، اقسام اور احکام
2025-09-27 15:57:49

یہ اصل سوال اور اس کا متعلقہ جواب ہے۔ جواب میں درج ماخذ، حوالہ اور شرائط ملحوظ رکھیں۔ کسی نئے یا مختلف معاملے کے لیے دارالافتاء سے رجوع کریں۔