شرعی سوال و جواب

کیا غلط وڈیوز دیکھنے کی وجہ سے غسل واجب ہو جاتا ہے ؟

کیا غلط وڈیوز دیکھنے کی وجہ سے غسل واجب ہو جاتا ہے ؟


سوال

جب کوئی غلط و ڈیو دیکھتا ہے ،تو کیا اس پر غسل فرض ہو جاتا ہے ؟

جواب

 واضح رہے کہ   غسل فرض ہونے کے لیے منی (سفید گاڑھا مادہ) کا اپنی جگہ سے شہوت کے ساتھ جدا ہو کر جسم سے باہر نکلنا ضروری ہے، پس اس طرح اگر منی نکلتی ہے تو غسل فرض ہو جائے گا،  اگر برے خیالات کی وجہ سے پانی کے رنگ کا لیس دار مادہ بغیر کودے نکلتاہے(جسے مذی کہتے ہیں) تو اس سے غسل فرض نہیں ہوتا، البتہ کپڑے یا جسم پر جہاں لگے اسے پاک کرنا ضروری ہوتاہے، اور اس سے وضو ٹوٹ جاتاہے،لہذا صورتِ مسئولہ میں  صرف غلط وڈیودیکھنے کی وجہ سے غسل واجب نہیں ہوتا ،جب تک منی  اپنی جگہ سے شہوت کے ساتھ جسم سے  باہر نہ نکلے ۔

نیزیہ بات بھی پیش نظر رہے کہ  جان دار کی تصاویر پر مشتمل کوئی بھی ویڈیو وغیرہ دیکھنا شرعاً جائز نہیں ہے، اور ایسی فلمیں جن میں فحش مواد ہو یا وہ فلم ہی فحش ہو اس کا دیکھنا تو اور زیادہ سخت گناہ ہے،  نیز اگر اس میں محرمات کے ساتھ  بدکاری وغیرہ  کے مناظر ہوں تو یہ انتہائی قبیح ترین عمل ہے اور کبیرہ گناہوں میں سے ہے، اس کو دیکھنا بھی حرام ہے، یہ معاشرہ کو بے حیائی ، جنسی بے راہ روی ، اور  جانوروں جیسا بنانے کی گہری شیطانی سازش ہے،  لہذا اس کی جتنی قباحت بیان کی جائے کم ہے، ایسے مناظر دیکھنا سخت حرام اور کبیرہ گناہ ہے، اس پر صدقِ دل سے توبہ واستغفار کرنا لازم ہے، اور آئندہ اس طرح کی چیزوں کے دیکھنے سے بلکہ سوچنے سے بھی اجتناب کرنا لازم ہے۔،نیز مشت زنی حرام ہے اور اس کے کرنے والے پر حدیث میں لعنت آئی ہے۔

حدیث  شریف میں ہے:

“إنّ أشدّ الناس عذابًا یوم القیامة المصورون.”

(مسلم، باب لاتدخل الملائکة بیتًا فیه کلب، 1670/3،ط:بيروت)

عمدۃ القاری شرح صحیح البخاری میں ہے :

“وفي التوضيح قال أصحابنا وغيرهم ‌تصوير ‌صورة ‌الحيوان حرام أشد التحريم وهو من الكبائر وسواء صنعه لما يمتهن أو لغيره فحرام بكل حال لأن فيه مضاهاة لخلق الله وسواء كان في ثوب أو بساط أو دينار أو درهم أو فلس أو إناء أو حائط وأما ما ليس فيه صورة حيوان كالشجر ونحوه.”

(باب عذاب المصورين يوم القيامة،ج:22،ص:70 ،ط:دارإحياء التراث العربي)

البحر الرائق میں ہے:

“فرض الغسل عند خروج المني موصوف بالدفق و الشهوة عند الإنفصال عن محله.”

(كتاب الطهارة،  المعاني الموجبة للغسل،1/ 57، ط: دارالكتاب الإسلامي)

 فقط واللہ اعلم


دارالافتاء :
جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


طہارت
موجبات غسل
2025-10-08 14:06:42

یہ اصل سوال اور اس کا متعلقہ جواب ہے۔ جواب میں درج ماخذ، حوالہ اور شرائط ملحوظ رکھیں۔ کسی نئے یا مختلف معاملے کے لیے دارالافتاء سے رجوع کریں۔