شرعی سوال و جواب
کیا مدارس کے مدرسین لاک ڈاؤن کے ایام کی تنخواہ کے حقدار ہیں؟
کیا مدارس کے مدرسین لاک ڈاؤن کے ایام کی تنخواہ کے حقدار ہیں؟
سوال
لاک ڈاؤن میں تعطیل کی تنخواہ مدرسین کے لیے لینا کیسا ہے ؟
جیسا کہ عرف عام میں یہ بات عام ہے کہ مدرس اجیر خاص کی حیثیت رکھتا ہے اور عام طور سے کسی بھی مدرسہ میں مدرس کی تبدیلی سال کے آخر میں عید کے بعد ہوتی ہے، تو لاک ڈاؤن میں عید کے بعد بھی اس کا تقرر مدرسہ میں مانا جائے گا یا نہیں ؟ تفصیل کے ساتھ مسئلے کا جواب عنایت فر مائیں!
جواب
1۔ جو مدرسین مدرسہ کے مستقل ملازم ہو تے ہیں وہ ضابطہ کے مطابق جس طرح سے ایام تعطیلات کی تنخواہ کے حق دار ہوتے ہیں، اسی طرح سے یہ افراد لاک ڈاؤن کے ایام میں بھی خدمت انجام دہی کے معاہدہ برقرار رہنے کی وجہ سے تنخواہ کے حق دار ہوں گے؛ البتہ اگر مدرسہ کی انتظامیہ نے اجارہ کا معاہدہ با ضابطہ طور پر ختم کرکے انہیں آگاہ کردیا ہو تو اس صورت میں جس دن معاہدہ ختم ہوا ہو، اس کے بعد سے مشاہرہ کے حق دار نہ ہوں گے۔
پس مسئولہ صورت میں مدرسین تنخواہ وصول کر سکتے ہیں، لیکن اگر مدرسہ میں فی الحال رقم موجود نہ ہو تو رقم مہیا ہونے تک اپنے مشاہرہ کے مطالبہ میں تاخیر کرنا بہتر ہوگا۔
2۔ جب تک مدرسہ کی انتظامیہ نے کسی مدرس کے ساتھ معاملہ ختم نہ کیا ہو، اس وقت تک کے مشاہرہ کی ادائیگی مدرسے کی انتظامیہ پر حسبِ دستور لازم ہوگی، لہذا صورتِ مسئولہ میں ایسے تمام مدرسین کو مشاہرہ دینا انتظامیہ پر لازم ہوگا۔
الدر المختار میں ہے:
“تُفْسَخُ بِالْقَضَاءِ أَوْ الرِّضَا.”
( كتاب الاجارة، بَابُ فَسْخِ الْإِجَارَةِ، ٦ / ٨٠، ط: دار الفكر)
فقط واللہ اعلم
دارالافتاء :
جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن
معاملات
اوقات ملازمت
2025-10-08 05:36:24
یہ اصل سوال اور اس کا متعلقہ جواب ہے۔ جواب میں درج ماخذ، حوالہ اور شرائط ملحوظ رکھیں۔ کسی نئے یا مختلف معاملے کے لیے دارالافتاء سے رجوع کریں۔
