شرعی سوال و جواب

کیا ہنسانے کے لیے جھوٹ بولنا جائز ہے؟

سوال

مذاق میں بچوں کے سامنے یا ہنسانے کے لیے جھوٹ بولنا جائز ہے ؟

جواب

مذاق میں جھوٹ بولنا یا کسی کو ہنسانے کے لیے جھوٹ بولنا جائز نہیں ہے۔

مشكاة المصابيح میں ہے:

“وعن بهزبن حكيم عن أبيه عن جده قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «ويل لمن يحدث فيكذب ‌ليضحك ‌به ‌القوم ويل له ويل له» . رواه أحمد والترمذي وأبو داود والدارمي.”

(كتاب الآداب، باب حفظ اللسان، الفصل الثاني، 3/ 1360، ط:المكتب الإسلامي بيروت)

ترجمہ: ’’جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص بات کرے اور انسانوں کو ہنسانے کے لیے جھوٹ بولے اس کے لیے تباہی ہے، تباہی ہے، تباہی ہے۔‘‘ (مظاہرحق)

فقط واللہ اعلم


دارالافتاء :
جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


حظر و اباحت
متفرقات ممنوعات و مباحات
2025-10-12 14:50:20

یہ اصل سوال اور اس کا متعلقہ جواب ہے۔ جواب میں درج ماخذ، حوالہ اور شرائط ملحوظ رکھیں۔ کسی نئے یا مختلف معاملے کے لیے دارالافتاء سے رجوع کریں۔