شرعی سوال و جواب

10 ذی الحجہ کی رمی کے بعد دعا مسنون نہیں ہے

سوال

10 ذی الحجہ کو شیطان کو کنکریاں مارنے کے بعد دعا کرنا سنت ہے یا نہیں؟

جواب

واضح ہو کہ جس رمی (شیطان کو کنکری مارنا) کے بعد دوسری رمی ہو، اُس رمی کے بعد ٹھہرنا اور دعا کرنا مسنون ہے،  اور جس رمی کے بعد دوسری رمی نہ ہو، اُس رمی کے بعد ٹھہرنا اور دعا کرنا مسنون نہیں ہے۔

صورتِ  مسئولہ میں 10 ذی الحجہ کی رمی  کے بعد دعا کرنا مسنون نہیں ہے۔

اللباب في شرح الكتاب میں ہے:

” ثم أفاض الإمام والناس معه قبل طلوع الشمس حتى يأتوا منى فيبتدئ بجمرة العقبة فيرميها من بطن الوادي بسبع حصياتٍ مثل حصى الخذف، ويكبر مع كل حصاةٍ ولا يقف عندها.”

و فيه أيضا:

“ولا يقف عندها) لأنه لا رمي بعدها، والأصل أن كل رمي بعده رمي يقف عنده، ويدعو، وما ليس بعده رمي لا يقف عنده، والأصل في ذلك فعل النبي صلى الله عليه وسلم.”

(كتاب الحج، ج1، ص190، 191، المكتبة العلمية)

فقط والله أعلم


دارالافتاء :
جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


حج
حج کے آداب
2025-10-08 06:47:42

یہ اصل سوال اور اس کا متعلقہ جواب ہے۔ جواب میں درج ماخذ، حوالہ اور شرائط ملحوظ رکھیں۔ کسی نئے یا مختلف معاملے کے لیے دارالافتاء سے رجوع کریں۔