سوال

(قوله جاز) أي صح عند الإمام استحسانا مع الكراهة التنزيهية  تیرہ ذوالحجہ کی رمی ز وال کے بعد ضروری ہے یا پہلے بھی کر سکتے ہیں ؟

جواب

13 ذی الحجہ کی رمی زوال سے  پہلے اور بعد میں دونوں وقتوں میں  کر ناجائزہے ،البتہ زوال سےپہلےرمی  کرنا مکروہ تنزیہی یعنی ناپسندیدہ ہےاور زوال کے  بعدرمی  کرنا اولی و بہتر  ہے  ۔

فتاوی شامی میں ہے:

“وإن قدم الرمي فيه) أي في اليوم الرابع (على الزوال جاز) فإن وقت الرمي فيه من الفجر للغروب.”(الدر)…(قوله جاز) أي صح عند الإمام استحسانا مع الكراهة التنزيهية.”

(کتاب الحج ، مطلب فی وقت الرمی فی الیوم الرابع ، ج : 2 ، ص : 521 ، ط : دار الفکر)

فقط واللہ اعلم


دارالافتاء :
جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


حج
حج کی سنتیں
2025-09-27 04:44:18

Ask Fatwa

Fill out this field
Please enter a valid email address.
Fill out this field
Fill out this field